راجہ ریاض کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست، لاہورہائیکورٹ نے نوٹسز جاری کردئیے

تازہ ترین

تازہ ترین

لاہور ہائیکورٹ نے راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کر دیئے۔

تفصیلات کے مطابق راجہ ریاض تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن ہیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد پی ٹی آئی کے 125 ارکان اسمبلی کے مستعفی ہونے کے بعد انہیں قومی اسمبلی (این اے) میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔

  یہ بھی پڑھیں:

الیکشن کمیشن نے فیصل واؤڈا کو سینیٹر کی نشست پر بحال کردیا

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے غوث بخش مہر سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں 17 ایم این ایز کی حمایت حاصل تھی۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دائر کی۔ درخواست گزار نے راجہ ریاض کے عہدے پر سخت سوالات اٹھا دئیے۔ 

ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست  میں کہا گیا تھا کہ راجہ ریاض کو پی ٹی آئی کی مشاورت کے بغیر اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا جو اب بھی مقننہ کی سب سے بڑی جماعت ہے۔درخواست میں وفاقی حکومت، وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی  کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنانا اسمبلی رولز کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے کی سماعت کے دوران اہم پہلوؤں پر غور کیا۔

آج ابتدائی سماعت کے بعد، لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت، وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر کو جوابدہی کے نوٹس جاری کیے، جب کہ عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی معاونت کے لیے طلب کیا، اور سماعت جنوری 2023 کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

Related Posts