امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن گزشتہ روز یونیورسٹی روڈ پر ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے شہید ہونے والے این ای ڈی یونیورسٹی کے طالب علم بلال کی نماز جنازہ میں شرکت، اہل خانہ، لواحقین و پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا۔
اس موقع پر انہوں نے جامعہ این ای ڈی کے طلبہ کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کراچی شہر کو بالکل لا وارث چھوڑ دیا گیا ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت شہید طالب علم کے قاتلوں کو فوری سزا دے اور شہر میں قیام امن کیلئے پولیس کو چوکس کرے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی نالائقی سے کراچی کے شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکے ہیں۔
این ای ڈی یونیورسٹی میں پڑھنے والے کراچی کے اس طالبعلم کاخون کس کے سر ہے؟
سندھ حکومت کے؟
جامعہ کے دروازوں پر بیٹھی رینجرزکے؟
یا آئی جی سندھ کے؟
ہمارے شہر کے نوجوان ایسے ہی قتل کیے جاتے رہیں گے؟#JusticeforBilal pic.twitter.com/k4RS74JjO4— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) December 15, 2022
دوسری طرف سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے اپنے بیان میں حافظ نعیم نے کہا کہ سقوط مشرقی پاکستان کا تاریخی سبق یہ ہے کہ پاکستان کو مستحکم رکھنے والی اور ترقی دینے والی صرف ایک طاقت ہےاسلام۔ یعنی اس کا عدل پر مبنی نظام۔
اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ انسانوں کے حقوق غصب کرکے حکمران طبقے کے چند عناصر پوری قوم کے سیاہ سفید کے مالگ بنیں گے تو قوم کیسے آگے بڑھے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








