نوے دن میں الیکشن، سپریم کورٹ فیصلے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردِ عمل

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیرِ قیادت سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو 90روز میں انتخابات کا پابند بنادیا ہے۔ فیصلے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردِ عمل سامنے آگیا۔

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے صدرِ مملکت کو جو ایڈوائس دی، اسی کے مطابق فیصلہ آیا۔ اب صدر کی دی گئی تاریخ ہی پنجاب اسمبلی کی الیکشن کی تاریخ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

آج جمہوری تاریخ کا اہم ترین دن، معاشی استحکام ملے گا۔شیخ رشید

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن 9 اپریل کو الیکشن نہیں کروا سکتا تو وہ صدر کو اپنی تاریخ تجویز کرسکتے ہیں۔ فیصلہ واضح ہے کہ الیکشن میں تاخیر ممکن نہیں۔ کے پی کے گورنر کو حکم دیا گیا کہ الیکشن کی تاریخ دیں۔

سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ آئین کی فتح ہوئی۔ پارلیمانی جمہوریت کی جیت ہوئی۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات آگئے۔ پنجاب کے انتخابات کی تاریخ صدرِ مملکت دیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ کے پی کے گورنر کو فوراً انتخابات کی تاریخ دینے کا پابند کیا گیا ہے۔ جن جج صاحبان نے فیصلے سے اختلاف کیا، وہ بھی الیکشن 90روز کے اندر کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں۔

رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ جو شخص آئین کی خلاف ورزی کرے وہ گورنر نہیں رہ سکتا۔ اس فیصلے کے بعد تھوڑی شرم و حیا ہوگی تو کے پی کے کا گورنر استعفیٰ دے دے گا۔

تحریکِ انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ان شاء اللہ پاکستان سرخرو ہوگا۔ جیت عوام کی ہوگی۔ جس ملک کے پاس ایسی قوم ہو اور عمران خان جیسا لیڈر ہو، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا کہ اللہ کریم کا شکر ہے کہ پاکستان میں آئین بحال ہے۔ الیکشن 90 روز میں ہوں گے۔ آج فیصل آباد میں گرفتاریوں کی بجائے اللہ کا شکر ادا کیا جائے گا۔ بھرپور جلسہ ہوگا، مگر گرفتاریاں نہیں دی جائیں گی۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ آج آئین کی فتح اور انصاف کی جیت ہوئی۔ اب روک سکو تو روک لو۔ اپنی شکست دیکھ کر آئین کو بلڈوز کیاجارہا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے قوم کے جذبے کو بلند کیا ہے۔

Related Posts