احرام کے ساتھ عورت کس طرح کا لباس پہن سکتی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سوال:

احرام کی حالت میں عورت کو کس قسم کا لباس پہننا اور کس قسم کے پہناوے سے گریز کرنا چاہیے؟

جواب:

احرام کی حالت میں عورت جو چاہے لباس پہنے، کسی (خاص )معین رنگ کی تقیید( قید) ضروری نہیں ہے،لیکن شرط یہ ہے کہ ایسے زینت کے لباس سے اجتناب کرے جو نظرکو متوجہ کرے، یا اس میں کوئی تشبہ (مشابہت)ہوجیسا کہ سفید لباس،البتہ دو چیزوں سے (اجتناب کرے گی) رکے گی:

اوّل: نقاب، وہ لباس جس میں دونوں آنکھوں کےلئے سوراخ کردیا جاتا ہے،لہذا اس کا پہننا جائز نہیں ہے۔

دوم: دستانہ،اور وہ انگلیوں والا غلاف ہے جس میں ہتھیلی کو داخل کیا جاتا ہے، اور یہ’’ شرّاب یدین‘‘ کے نام سے مشہور ہے، رسولﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے:’’محرم عورت نہ تو نقاب پہنے، اور نہ ہی دستانہ استعمال کرے‘‘ ( اسے بخاری نے حدیث نمبر: 1542 اورمسلم نے حدیث نمبر: 1177کے تحت ابن عمررضی اللہ عنہما کی حدیث سے ذکرکیا ہے، اور یہ بخاری کے الفاظ ہیں)۔

رہی بات بعض ان عورتوں کی جو نقاب لگاتی ہیں اور اس کے اوپر حجاب استعمال کرتی ہیں ،تاکہ راستہ نظر آئے ،تو ۔واللہ اعلم۔ ظاہر یہی ہے کہ نقاب سے ممانعت کی عمومی ممانعت اس کو بھی شامل ہوگی، کیونکہ پہننا پا یا جارہا ہے، پس اگر کہا جائے کہ کیا ضرورت کے وقت جائز نہیں،اور راستہ بھی ظاہر نہیں؟تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ:ممنوعات احرام میں سے جس چیز کو ضرورت کے تحت کیا جائے تو اس پر فدیہ ہے، اورچونکہ یہ غیر ظاہر ہے اس لئے ہوسکتا ہے حکم میں اثرانداز نہ ہو، جیسا کہ گذرچکا۔

اورمرد وعورت دونوں کے لئےاحرام کا لباس بدلنا،اوراس کو احرام کے بعد دھونا جائز ہے، اوربعض عورتوں کا یہ خیال کہ محرم عورت اپنے احرام کے کپڑے میں ہی باقی رہے گی، اس کا تبدیل کرنا اوردھونا جائز نہیں، توان تمام چیزوں کی کوئی اصل اوردلیل نہیں ہے، واللہ اعلم۔

Related Posts