لاہور: نیب نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی گرفتاری کا فیصلہ کر لیا ہے جس کیلئے وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی گرفتاری کا فیصلہ قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے کیا اور چیئرمین نیب سے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست بھی کردی۔ عثمان بزدار پر 9 ارب سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔
منی لانڈرنگ کیس، عدالت نے سلیمان شہباز سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا
بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عثمان بزدار پر نئے آرڈیننس کا اطلاق کیا جاسکتا ہے جس کے تحت سابق وزیر اعلیٰ دورانِ انکوائری بھی گرفتار ہوسکتے ہیں۔ عثمان بزدار اور اہلِ خانہ پر گندم برآمدگی کا کیس بھی زیرِ تفتیش ہے۔
قبل ازیں عثمان بزدار پر پیسے لے کر تقرریاں کرنے اور اختیارات سے تجاوز سمیت دیگر الزامات بھی عائد کیے گئے۔ بعض کیسز میں عثمان بزدار نے عدالت سے ضمانت بھی لے رکھی ہے۔ گزشتہ ماہ سابق وزیر اعلیٰ نے پی ٹی آئی اور سیاست چھوڑ دی تھی۔
کوئٹہ میں 2 جون کو پریس کانفرنس کے دوران سردار عثمان بزدار نے کہا کہ میں 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں۔ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔ ماضی میں عثمان بزدار کو عمران خان نے ہی وزارتِ اعلیٰ سے ہٹایا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








