اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بلاوے پر ملاقات کے معاملے پر کمیشن اراکین سے مشاورت کا مبینہ فیصلہ کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آج چیف الیکشن کمشنر نے اجلاس طلب کیا جس میں ممبران سے رائے لی جائے گی جبکہ آئین کی دفعہ 48 (5) جس کا حوالہ صدرِ مملکت نے دیا ہے، چیف الیکشن کشمنر کو صدر سے ملاقات کا پابند نہیں کرتی۔
چیف جسٹس عمران خان کو بچانے کیلئے سرگرم ہیں، نواز شریف
صدرِ مملکت نے بادی النظر میں الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر واضح فیصلے کیلئے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کیلئے بلایا ہے تاہم انتخابات کی تاریخ کا معاملہ قانون میں حالیہ ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کا استحقاق ہے۔
تاہم صدرِ مملکت آئینی اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے عہدے پر براجمان ہیں۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے اراکین سے مشورے کیلئے اجلاس طلب کیا ہے جس میں اہم قانونی نکات پر مشاورت متوقع ہے۔
قانون کی جس شق کا حوالہ صدرِ مملکت نے دیا، اس میں صدر پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے جس کے بعد ہی صدر عام انتخابات کی کوئی تاریخ مقرر کرنے کے مجاز ہوسکتے ہیں جو اسمبلی تحلیل کے 90روز کے اندر اندر ہونی چاہئے۔
آئینی اعتبار سے صدرِ مملکت کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار وزیر اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور ہونے کی صورت میں اس وقت مل جاتا ہے جب کوئی اور رکن ایوان میں اکثریت نہ رکھتا ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








