صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما و ڈسٹرکٹ بار کے رکن ظفراقبال مغل کا قومی احتساب بیورو (نیب) حراست کے دوران انتقال ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے شہر لیہ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما کوقومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام نے جعلی ہاؤسنگ اسکیم کیس میں 11 اکتوبر کو حراست میں لیا۔
قومی احتساب بیورو کے حکام نے تحریکِ انصاف رہنما ظفر اقبال سمیت 14 ملزمان کے خلاف ریفرنس گزشتہ ماہ دائر کیا جبکہ مرحوم ایڈووکیٹ ظفر اقبال 86 روز نیب کی حراست میں رہے۔
نیب حراست کے دوران مرحوم ایڈووکیٹ ظفر اقبال کی طبیعت بگڑ گئی جس کے بعد 4 روز قبل انہیں ملتان کے مشہور نشتر ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔
ملتان کے نشتر ہسپتال میں گزشتہ شب انتقال کرنے والے ایڈووکیٹ ظفر اقبال کے خلاف ریفرنس میں نیب حکام نے ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے لیہ میں 254 ایکڑ پر مشتمل ہاؤسنگ کالونی بنائی جسے رجسٹر نہیں کروایا گیا۔
ایڈووکیٹ ظفر اقبال کو شراکت دار رضا ملک کے ہمراہ 11 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا۔ ملتان کی عدالت میں 17 جنوری کو تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے ظفر اقبال کے خلاف کیس کی سماعت مقرر تھی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست پر نکتۂ اعتراض اٹھاتے ہوئے درخواست واپس کردی۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست پر اعتراض کیا کہ درخواست گزار فرخ نواز بھٹی نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست واپس
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








