کراچی:سندھ کے وزیر اطلاعات، بلدیات، جنگلات وجنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں بین الاقوامی فلائٹس آپریشن کی دوبارہ منسوخی ایک اچھا قدم ہے،صوبائی حکومتیں تاریخ کے مشکل ترین حالات میں مشکل ترین تاریخی فیصلے کر رہی ہے۔
لہٰذا اس قسم کا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ فلائٹ آپریشن کی بحالی یا اس قسم کا کوئی بھی دوسرا فیصلہ جس سے صوبے متاثر ہوسکتے ہوں لینے سے پہلے وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مکمل مشاورت کرے گی۔
اس سے پہلے جب وفاقی حکومت نے 5 اپریل سے بین الاقوامی فلائٹس کی بحالی کا فیصلہ کیا تھا۔تو صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے اپنے ٹوئٹ میں بین الاقوامی فلائٹس آپریشن کی بحالی کے وفاقی حکومت کے فیصلے کو انتہائی غیر دانشمندانہ قرار دیا تھا۔
سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ فلائٹس آپریشن کی بندش کا فیصلہ پہلے ہی بہت تاخیر سے کیا گیا تھا۔اب اس کی بحالی مسائل کوجنم دے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو کورونا وائرس کے خلاف ایک مشکل جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ایسا کوئی بھی فیصلہ ان کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے۔
صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چونکہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ پورے ملک میں ہو رہا ہے لہٰذا ہمیں صحت کے معاملے میں احتیاط برتنے سے متعلق ایک مشترکہ ہدایت نامہ جاری کرنا چاہیے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یکساں ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔
تمام حکومتوں کو مل کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کاکہنا تھا کہ اکٹھے ہم نہ صرف کورونا وائرس کے پھیلاؤکے خلاف بہت مؤثر اقدامات اٹھاسکتے ہیں۔بلکہ اس طرح سے لئے گئے فیصلے زیادہ اثر انگیز ثابت ہوں گے اور لوگ اس پر عمل بھی کریں گے۔
دریں اثناء سید ناصر حسین شاہ نے کورونا وائرس کے حوالے سے بنائی گئی ٹاسک فورس کی 32 ویں میٹنگ کے فیصلوں کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے میٹنگ کے دوران یہ ہدایات جاری کی ہیں کے سب سے پہلے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے خاندانوں تک راشن اور نقد رقم پہچانے کا فوری بندوبست کیا جائے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت سندھ ایک ایسا طریقہ کار وضع کر رہی ہے جس کے ذریعے با آسانی ان لوگوں کے خاندان تک پہنچاجاسکے جو کہ روزانہ اجرت پر کام کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت نے ایک ’ریلیف انشیئٹو ایپ‘ بھی بنالی گئی ہے جس کے ذریعے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کو شناختی کارڈ کے نمبروں کے ذریعے رجسٹرڈ کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔