کوئٹہ: سابق گورنر و وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی کے قتل کو آج 14 برس مکمل ہو گئے جبکہ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بگٹی 26 اگست 2006ء کو ایک دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔
نواب اکبر بگٹی کے والد کا نام محراب خان ہے، آپ کی پیدائش ڈیرہ بگٹی میں ہوئی۔ تعلیم لاہور کے ایچی سن کالج سے حاصل ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرونِ ملک گئے جہاں آپ کو اکسفورڈ یونیورسٹی سے اکتسابِ فیض کا شرف حاصل ہوا۔
سن 1946ء میں نواب اکبر بگٹی کو بگٹی قبیلے کا سردار بنایا گیا۔ قبل ازیں آپ کے خاندان کے 18 افراد قبیلے کے سربراہ رہ چکے تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ خاندانی وراثت کے تحت نواب اکبر بگٹی مسلسل نواب ابنِ نواب رہے۔ سن 1950ء میں حکومتِ پاکستان کی خصوصی اجازت حاصل کرکے آپ نے سول سروس کی تربیت حاصل کی۔
سیاسی اعتبار سے بگٹی خاندان ملکی تاریخ میں بے حد اثر رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ سن 1951ء میں نواب اکبر بگٹی کو گورنر بلوچستان کا مشیر مقرر کیا گیا۔ 1958ء میں آپ وزیرِ مملکت بنے۔ 60ء کی دہائی میں آپ نے نیشنل عوامی پارٹی میں شملیت اختیار کی۔ کچھ عرصہ ایوب خان کے دور میں قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔
سن 1973ء میں اکبر بگٹی گورنر بلوچستان بنے۔ 10 ماہ تک گورنر رہنے کے بعد آپ نے پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کے باعث استعفیٰ دے دیا۔ سن 1988ء میں نواب اکبر بگٹیی رکنِ بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے۔
فروری 1989ء سے اگست 1990ء تک نواب اکبر بگٹی وزیرِ اعلیٰ بلوچستان رہےجبکہ ان کی زیرِ صدارت کام کرنے والی صوبائی اسمبلی بعد ازاں وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے تحلیل کی۔ 1993ء میں نواب اکبر بگٹی رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں اردو زبان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے خود کو قوم پرست رہنما ثابت کیا۔
بعد ازاں صوبے کے حقوق کیلئے نواب اکبر بگٹی نے قوم پرست رہنماؤں کی قیادت شروع کی۔ حکومت سے شدید اختلافات کے باعث نواب اکبر بگٹی کوہلو کے پہاڑوں میں روپوش رہے۔ 26 اگست 2006ء کو جب کچھ فوجی اہلکار نواب اکبر بگٹی کے غار میں داخل ہوئے تو اچانک بم دھماکہ ہوا۔
بم دھماکے کے نتیجے میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ ساتھ 37 قوم پرست ساتھی اور رہنماؤں کے ساتھ اتسھ پاک فوج کے 21 اہلکار بھی شہید ہوئے جس کی ذمہ داری نواب اکبر بگٹی کے رشتہ داروں نے سابق صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف پر عائد کی۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ میرا نواب اکبر بگٹی کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کے حق میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔ مشتعل افراد نے زیارت میں قائدِ اعطم کی رہائش گاہ کو مسمار کردیا۔ 13 جون 2013ء کو جنرل (ر) پرویز مشرف کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی۔
نواب اکبر بگٹی ملکی سیاست میں ایک بڑا نام ہونے کے باوجود انصاف سے محروم رہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کچھ ہی عرصے بعد رہا کردئیے گئے اور واقعے کے اصل ذمہ داروں کو آج تک سزا نہ دی جاسکی۔ آج نواب اکبر بگٹی کے قتل کو 14 سال مکمل ہونے پر ان کی برسی منائی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف کا دورِ اقتدار، استحصال سے لے کر آزادی تک
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








