کراچی: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اس 14 اکتوبر کوکراچی سے چترال تک یوم یکجہتی کراچی منائے گی۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہری دیہی اور شہری عوام دونوں مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میرٹ کی بنیاد پرنوکریاں دی جائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”حقوق کراچی مارچ ” کے شرکاء سے شاہراہ قائدین پر ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔
”حقوق کراچی مارچ ” مارچ کا آغاز لائنز ایریا کے قریب سے کیا گیا اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں پیدل مارچ کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں شرکاء سابق اللہ والی چورنگی تک پہنچے۔جہاں وسیع و عریض اور 20 فٹ بلند اسٹیج بنایا گیا تھا۔
مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ جب مطمئن ہوتے ہیں توملک ترقی کرتاہے،کراچی میں صرف مہاجرنہیں، سندھی، بلوچ، گلگتی،سرائیکی، پشتون اور دیگر لوگ بھی رہتے ہیں، کراچی کی تباہی ملک کی تباہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایوب خان کی حکومت سے لے کرموجودہ حکومت تک کسی نے شہرکاحق نہیں دیا۔پی ٹی آئی حکومت نے شہرکوبدحالی سے نوازاہے۔یہاں آج پانی نہیں، گٹرابل رہے ہیں، بجلی گیس نہیں مل رہی۔اگرالیکشن فیئرہوگاتومیئرجماعت اسلامی کاہوگا، فیصلہ کرناہوگاحکومت کامیاب ہے یاناکام ہے؟
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو 780 روزہوگئے، پاکستان کی تاریخ میں معیشت اتنی تباہ پہلے کبھی نہیں ہوئی، دواؤں کی قیمت میں اضافہ کیاگیا، عمران خان کہتے ہیں کہ قیمتیں بڑھانے سے اب ادویہ میڈیکل اسٹوروں پر دستیاب ہوگی۔ ایک کلوآٹااب 60سے 70روپے کلو ملتاہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دواؤں کی قیمت میں اضافہ قبول نہیں۔کراچی کے بچے بھی محفوظ نہیں،پانچ سالہ مرواکوجلایاگیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیرکے معاملے پرہماری حکومت شہریوں کو مطمئن کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کررہی ہے۔
سکوت ڈھاکہ کی طرح یہ لوگ سکوت کشمیر بھی کر چکے ہیں۔ تینوبڑی جماعتوں نے ملک کوتباہ کیا،ہم ملک بھرعوام کی نمائندگی کرینگے۔وزیراعظم خودکہتے ہیں مافیاموجودہے،نیب کوایک انتقام کے طورپراستعمال کیاجا رہا ہے۔
وزیراعظم کہتے ہیں یوٹرن لینابڑے لیڈرکی نشانی ہے۔وزیراعظم صاحب یوٹرن کے بجائے رائٹ ٹرن لے لیجیے، اس میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں نئے اور پرانے چور شامل ہیں۔
نئے چورہوں یاپرانے چورہمیں سب کااحتساب کرناہے۔پہلے کہتے تھے انڈے سے معیشت بڑھے گی پھر مرغی، بکری اب انکے لیڈرکہتے ہیں بھنگ کی پیداوارکرکے معیشت بڑھاینگے۔ کراچی کے نام پررونے دھونے سے کراچی کامسلہ حل نہیں ہوگا۔ جماعت اسلامی ہی کراچی کے شہریوں کو انکا حق دلوائے گی۔