کراچی کے بڑے پارکوں کی تزئین و آرائش کا کام شروع کردیا گیا ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی

تازہ ترین

تازہ ترین

govt taking steps for the development of Karachi: Commissioner shallwani

کراچی:ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار علی شالوانی کا کہنا ہے کہ کراچی کے بڑے پارکوں کی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش اور شجر کاری کا کام شروع کردیا گیا ہے، یہ کام شہریوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور مختلف اداروں کے تعاون سے مکمل کئے جائیں گے۔

یہ بات انہوں نے اتوار کے روز فریئر ہال پارک کی صفائی ستھرائی اور کچرا اٹھانے کے آغاز کے موقع پر کہی، انہوں نے کہا کہ کراچی کو اگر صاف ستھرا رکھنا ہے تو شہریوں کو خود خیال رکھنا ہوگا، کراچی اگر صاف ستھرا ہوگاتو بیرون شہر اور دنیا کے دیگر ممالک سے لوگ یہاں آئیں گے کیونکہ یہ شہر تاریخی اور ثقافتی ورثے کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کراچی پاکستان کی پہچان ہے اور یہ شہر ترقی کے بے شمار مواقع رکھتا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے تاریخی عمارات کو محفوظ کرنے، کے ایم سی لائبریریوں کی بحالی، اسٹریٹ لائبریریز کا قیام، مونومنٹ اور سڑکوں کے درمیان گرین بیلٹس کو بہتر کرنے، شجر کاری سمیت دیگر کاموں کا آغاز کیا ہے تاکہ شہر کا سوفٹ امیج بہتر کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ فریئر ہال کی عمارت میں تجاوزات کو ہٹا دیا گیا ہے اور اس عمارت کو اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ قومی ورثے کی حامل تاریخی عمارات میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی اس لئے کے ایم سی کے زیر انتظام تمام عمارتوں اور پارکوں کو ان کی اصلی حالت میں بحال کریں گے تاکہ ہمارا تاریخی ورثہ محفوظ ہوسکے۔

انہوں نے کہا شہری اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ ان پارکوں میں آئیں، یہ آپ ہی کے پارکس ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ایس ایل جی اے کے تحت جو اختیارات مجھے حاصل ہیں ان کے تحت اپنے فرائض انجام دوں گا اور دوسرے سوک اداروں کے ساتھ مل کر کراچی کو صاف ستھرا اور سر سبز بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کروں گا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار علی شالوانی نے کہا کہ فریئر ہال اور یہاں پر واقع تاریخی لیاقت لائبریری کو شہریوں کے لئے کھول دیا گیا ہے اور لائبریری کو اس قابل بنا دیا گیا ہے کہ شہری سکون کے ساتھ لائبریری میں موجود کتابوں سے استفادہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہل پارک، کڈنی ہل، باغ ابن قاسم اور پولو گراؤنڈ سمیت تمام پارکوں کو صاف ستھرا کریں گے اور ان میں مزید شجرکاری بھی کی جائے گی، یہ شہریوں کی امانت ہیں اور بلدیاتی اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں اور انہیں اس قابل رکھیں کہ شہری ان پارکوں میں آئیں اور اپنے خاندان کے ساتھ پرسکون وقت گزاریں۔

Related Posts