لاہور / لندن: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غلام بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر رہنا چاہتا ہوں عزت کی زندگی جینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
نوازشریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس لاہور میں منعقد کیا گیا، جس میں ن لیگ کی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی، اجلاس میں شہباز شریف کی گرفتاری سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور، درپیش حالات کے پیش نظر سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔
نوازشریف کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ آج تو ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر اپنوں کی غلامی میں آ گئے ہیں۔ ہم آزاد شہری نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ اپنے آپ سے پوچھے کیا آپ آزاد شہری ہیں؟
انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب تمام چیزوں کا حساب دینا ہوگا۔ دوٹوک فیصلہ کرلیا ہے کہ ذلت کی زندگی ہم نہیں جی سکتے۔ ظلم، زیادتیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا قوم نے فیصلہ کرلیا تو تبدیلی سالوں میں نہیں چند مہینوں اور ہفتوں میں آجائے گی۔
نواز شریف نے اجلاس میں شریک اپنے اراکین اسمبلی سے سوال کیا کہ جس پارلیمنٹ کے آپ کے رکن ہیں وہ کتنی خود مختار ہے۔ مجھے لوگوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس پارلیمنٹ کو کوئی اور چلا رہا ہے۔ دوسرے لوگ پارلیمنٹ میں آ کر بتاتے ہیں کہ آج ایجنڈا کیا ہو گا۔ پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔سب کچھ سب کے سامنے ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ جسے لائے ہیں اس کا ذہن خالی ہے، پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے، آپ کو ہی جواب دینا ہوگا۔ یہ بندہ تو قصور وار ہے ہی لیکن لانے والے اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انہیں دینا ہوگا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ روزانہ بنیادوں پر پارٹی کو دستیاب رہوں گا، پارٹی جو فرض سونپے گی، ادا کروں گا آپ کی مشاورت کا منتظر ہوں کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے کیا حکمت عملی ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کیساتھ سلوک پردکھی ہوں، اُن کے ساتھ بہت نا انصافی ہوئی ہے،ہمارے بچوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے، تاریخ میں ایسا سیاہ رویہ نہیں ہوا، جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ہمارے جذبے مزید بڑھے ہیں، اور ہم اپنی جدوجہد مزید تیزکریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے ساتھی جرات سے حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں، انہوں نے میدان خالی نہیں چھوڑا ہے، شہبازشریف نے بے مثال جرات وبہادری اور استقلال کا مظاہرہ کیا ہے، وہ مرد میدان ہیں، انہوں نے مشکلات کے سامنے سرنہیں جھکایا۔