کراچی :پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین اور سابق سٹی ناظم کراچی سیدمصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ عوام کے نام پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے۔
حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا، کل پاکستان کی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔
پاکستان کو پونے تین ہزار ارب روپے کما کر دینے والے کراچی کو پیکیج نہیں اس کا حق چاہیے، کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے تو پاکستان کے مسائل بھی حل نہیں ہوں گے، آج جو مایوسی ہے، عوام میں اتنی مایوسی پہلے کبھی نہ تھی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے جناح گرائونڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہاکہ کل کا جلسہ پاکستان کے مایوس لوگوں کے لیے امید کی کرن ہو گا اور ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اب تک جو بھی کہا ہے وہ کر کے دکھایا ہے، ہماری ساری باتیں صحیح ثابت ہوئیں۔ہم نے جو کہا اور عمل کیا اس میں زیر زبر کا بھی فرق نہیں آیا، اس ساڑھے چار سالہ سیاست میں مصطفی کمال اور اس کی پارٹی نے ایک بھی یوٹرن نہیں لیا ہے کیونکہ ہم نے جھوٹ نہیں بولا اور یوٹرن وہ لیتے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے لوگ تباہ حال ہیں، ہر طرف تباہی اور بربادی ہے، ادارے تباہ برباد کر دیئے گئے ہیں اور کوئی بھی قوم کو اس تباہی سے نکالنے کی بات نہیں کر رہا، حکومت لگی ہوئی ہے حکومت بچانے میں اور اپوزیشن حکومت گرانے میں لگی ہوئی ہے، اس حکومت بچانے اور گرانے کے کھیل میں عوام کو مزید پیستے چلے جا رہے ہیں اور کوئی فارمولا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے نام پر پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے، اپوزیشن ہو یا حکومت، دونوں اطراف سے اس ملک کو لوٹا جا رہا ہے اور اس ملک کے لوگوں کو مایوس کردیا ہے، اتنی مایوسی ملک میں پہلے کبھی نہیں تھی۔انہوں نے کہاکہ ہم عوام کی فلاح کا فارمولا پیش کریں گے۔
ہم پاکستان کی فلاح کا فارمولا پیش کریں گے، پاکستان بالخصوص کراچی اور پورے سندھ کو اس تباہی کے دہانے پر جس طرح پہنچایا گیا ہے، اس کے ذمے داروں کا کل تعین ہو گا اور ان کا نام لیا جائے گا اور اس کو تباہ کرنے اور لوٹنے والوں کا کل یوم حساب ہو گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کل یہاں سے وہ مقدمہ پیش ہو گا اور اس میں پاکستان کے آج اور آنے والے کل پر بات کی جائے گی، جب تک آپ بیماری کو جڑ سے پکڑیں گے نہیں، اس وقت تک آپ اس کا علاج نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی بیماری یہ نہیں ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن باتیں کر رہی ہے بلکہ جو مسائل کے حل کی بات کررہے ہیں وہیں مسائل کا حصہ ہیں، جو تباہی و بربادی کا حصہ ہوں وہ فلاح کا حصہ کیسے ہوسکتے ہیں۔
پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ساری تیاریاں مکمل ہیں، پاک سرزمین پارٹی کے کارکنوں نے بغیر کسی سرکاری وسائل سے جس طرح محنت کی ہے وہ قابل ستائش ہے اور عوام نے جس طرح ہمارا ساتھ دیا ہے اس پر بھی ہم ان کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب 8نوممبر کاسورج طلوع ہو گا تو ہم بتائیں گے کہ پاکستان کو تبادہ کرنے والا کون ہے اور کل ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے، جس طرح سے کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، اسی طرح کراچی کے عوام کل بتائیں گے کہ کراچی پاکستان کی سیاسی شہ رگ بھی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کل ہمارا دیا ہوا فلسفہ پاکساتن کے روڈمیپ کا تعین کرے گا اور ہم نے اب تک جو لائحہ عمل دیا ہے وہی پاکستانیوں کی فلاح کا رستہ ہے۔
مصطفی کمال نے کہا کہ آج سے ڈیڑھ ماہ پہلے کراچی میں نالوں کا پانی گھروں میں گھس آیا، 64 لوگ ہلاک ہو گئے، ہزاروں لوگ تباہ برباد ہو گئے، اربوں کا سامان بہہ گیا، آرمی چیف، چیف جسٹس اور وزیر اعظم آگئے، 1100 روپے کا لالی پاپ دے دیا اور اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔
انہوں نے کہاکہ اب پھر جب لوگ مریں گے، پھر کیمرے لگائے جائیں گے اور سب آ کر آنسو بہائیں گے اور یہاں سے چلے جائیں گے لیکن ہم یہ کھیل بند کریں گے۔
انہوں نے کراچی کے عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اگر آج آپ خاموش رہیں گے تو وہ ظالموں کا ساتھی کہلائے گا، خاموش رہنے والوں کی وجہ سے ظلم بڑھ رہا ہے۔
پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے اس ظلم کے خلاف آواز حق بلند کی ہے، جب اس شہر میں سچ بولنے کی سب سے چھوٹی سزا موت تھی، ظلم اور دہشت گردی کا راج تھا، ہم نے را جیسے 22سالہ تسلط کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ہم اس پاکستان سے بھی فرسودہ نظام کل جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ہر سال پونے تین ہزار ارب روپے کما کر دینے والے کراچی کو امدادی پیکیج نہیں اس کا حق چاہیے، ہمیں کوئی کیا پیکیج دے گا کیونکہ پورے پاکستان کوپیکیج تو ہم دیتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہماری بات نہیں سنی گئی تو پھر اس پاکستان میں کسی کی سیاست نہیں بچے گی۔