کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی اشیائے خردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے، پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور کمشنر و ڈپٹی کمشنر کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی روک تھام کرنے میں مکمل ناکامی کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کو اس اچانک مہنگائی سے نجات دلوائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف اشیاء خردونوش کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے شہری پریشان ہیں تودوسری طرف یوٹیلیٹی اسٹورز پر وفاقی حکومت کا رمضان پیکیج بھی عملاً کہیں نظر نہیں آرہا۔
یوٹیلیٹی اسٹورز سے چینی اور آٹے جیسی انتہائی ضروری اشیاء تک غائب ہو گئی ہے۔ حکومت کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،2کلو چینی کے لیے بھی رمضان المبارک میں شہریوں کو لمبی لمبی قطاریں لگانے کے باوجود چینی نہیں مل رہی۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگی ہی اجیرن بنارکھی ہے اور اس ماہ مقدس میں ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں نے عوام کی مشکلات و پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سندھ حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی۔ حکومت کی مقررکردہ پرائس کنٹرول لسٹ بھی کہیں موجود نہیں اور اگر موجود بھی ہیں تو اس کے مطابق اشیاء فروخت نہیں کی جا رہی۔
کمشنر کراچی اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنے اعلانات اور دعوؤں کے باوجود عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کا خمیازہ غریب اور متوسط طبقے کے افراد بھگت رہے ہیں۔