کراچی: تحریکِ انصاف کے اراکین نے سندھ اسمبلی میں ناظرہ قرآنِ پاک کی پڑھائی لازمی قرار دینے کا بل پیش کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین نے اہم قانونی مجوزہ پیش کیا۔ قانون ساز ممبران میں ارسلان تاج گھمن، شہزاد قریشی اور رابطہ اظفر نظامی شامل تھے جنہوں نے گزشتہ روز بل جمع کرایا۔
اراکینِ سندھ اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے مجوزہ بل میں تعلیمی اداروں میں پہلی سے پانچویں جماعت تک بچوں کو ناظرہ قرآنِ پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے بل میں تجویز دی گئی ہے کہ چھٹی سے بارہویں جماعت تک قرآنِ پاک ترجمے کے ساتھ پڑھایا جائے۔ چھٹی سے نویں جماعت تک قرآنِ پاک کے 2 ہزار الفاظ حفظ کرائے جائیں۔
پی ٹی آئی آراکینِ سندھ اسمبلی کی جانب سے مجوزہ قانون سندھ کمپلسری ٹیچنگ آف قرآن بل 2021ء کے نام سے جمع کرایا گیا۔ شہزاد قریشی، رابعہ اظفر اور ارسلان تاج گھمن کا کہنا ہے کہ قرآنِ پاک کی تعلیم لازمی قرار دی جانی چاہئے۔
سندھ اسمبلی میں تاحال پی ٹی آئی کے مسودۂ قانون کی منظوری کے حوالے سے پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ اسمبلی کا گزشتہ روز کا اجلاس پانی کے معاملے پر شروع ہونے والی بحث و تمحیص پر ختم ہوا جس پر پہلے ہی وفاق اور صوبائی حکومت کی محاذ آرائی جاری ہے۔
پانی کے حوالے سے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے چوری کے الزام پر سندھ حکومت کو حقائق بیان کرنے کیلئے خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ کوٹری بیراج سے نیچے پانی کی 50 فیصد چوری ہوتی ہے۔
خط کے متن میں کہا گیا کہ ارسا کی متعدد درخواستوں کے باوجود کوٹری بیراج سے پانی بدستور غائب ہو رہا ہے، یکم سے 22 مئی تک کوٹری بیراج سے نیچے 52 ہزار ایکڑ فٹ پانی غائب ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ارسا کا پانی چوری پر سندھ حکومت کو حقائق بیان کرنے کے لیے خط
قبل ازیں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیرصدارت شروع ہونے والا سندھ اسمبلی کا اجلاس کچھ دیر میں ہی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا جس میں سندھ کے حصے کا پانی دینے سے متعلق قرارداد بھی پیش کی گئی۔
گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب صوبائی وزیر آبپاشی سہیل انور سیال نے سندھ کے حصے کا پانی دینے کی قرارداد پیش کی۔ جس کی مخالفت پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی محمد علی جی جی نے شروع کی۔
قرارداد کی مخالفت کرنے پر سہیل انور سیال غصے میں آگئے اور پی ٹی آئی کے رکنِ سندھ اسمبلی کے ساتھ مارپیٹ کی کوشش کی۔ وزیرِ آبپاشی سندھ پی ٹی آئی اراکین کی طرف حملے کے لیے لپکے تو ساتھیوں نے انہیں روک لیا۔
مزید پڑھیں: سندھ کے حصے کا پانی دینے کی قرارداد پیش، اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








