کراچی: ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں لاک ڈاؤن سے قبل وزیراعلیٰ سندھ نے ڈاکٹر فیصل سلطان اور اسد عمر سے بات کی تھی۔ وفاق کی جانب سے ہمیں نہیں کہا گیا کہ آپ لاک ڈاؤن نہ لگائیں۔ لاک ڈاؤن کے حوالے سے بہت سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ اسلام آباد میں بیٹھنے والے کراچی کے زمینی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
لاک ڈاؤن کے حوالے سے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا معاملہ صحت کا معاملہ ہے معیشت کا نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن اور ویکسین کیلئے اگر آپ لوگوں کو قائل نہیں کرسکتے تو متضاد بیانات نہ دیں۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ میں 26 جون سے 31 جولائی تک کورونا کیسز میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔ کراچی کے اسپتال مریضوں سے بھرنا شروع ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹرز کی مشاورت سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ فیصلہ ہوا تھا کہ ویکسین نہ لگوانے والوں کی سم بند کردی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اعلان کے بعد لوگوں نے ویکسین لگوانے کے لیے تیزی سے رجوع کیا ہے، پہلی ڈوز والے اور دوسری ڈوز والے افراد کی بڑی تعداد نے ایکسپو سینٹر کا رخ کیا۔ 2 سے 3 روز میں ویکسینیشن کرانے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ کو ویکسی نیشن سینٹر تک آنے کی اجازت ہوگی۔ چاہتے ہیں کہ لوگ گھروں سے باہر نکلیں تو صرف ویکسین لگوانے کیلئے۔ جن اداروں نے سو فیصد ویکسی نیشن کرالی انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
کراچی میں لاک ڈاؤن سے متعلق انہوں نے کہا کہ پوليس کا جو اہلکار غلط کام کرے گا، اس کيخلاف کارروائی ہوگ، پيسے لے کر کام کی اجازت دينے والوں کيخلاف بھی کارروائی ہوگی۔ پولیس میں 95 فیصد لوگ ویکسین لگوا چکے ہیں۔ جہاں پر انتظامیہ غلط کام کرے گی تو ان کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔