اسلام آباد: وزیرِ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا شاہ محمد خان پر عمائدینِ علاقہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بدعنوانی کے تمام سابقہ ریکارڈز توڑ دئیے ہیں اور اگر ہمارا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا تو ہم ڈی چوک پر پھانسی بھی لٹکنے کو تیار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کے پی کے میں ضلع بنوں کے سردی خیل اور بکا خیل قبائل کے عمائدین نے صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ شاہ محمد خان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ناانصافی، بدعنوانی اور کرپشن کے تمام ریکارڈز توڑ کر یہ اعزاز اپنے نام کر لیا ہے کیونکہ وہ تمام تر ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے من پسند افراد کو دے دیتے ہیں۔
سردی خیل اور بکا خیل قبائل کے عمائدین نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیکے دینے کیلئے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے پی کے رشوت لیتے ہیں اور وزیرِ موصوف پی ٹی آئی کے نام پر دھبہ ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ شاہ محمد خان کی کرپشن پر انکوائری کی جائے اور انہیں عہدے سے برطرف کردیا جائے۔
گفتگو کے دوران عمائدین نے کہا کہ اگر ہمارا یہ دعویٰ جھوٹا نکلا تو ہم ڈی چوک میں پھانسی لٹکنے کیلئے تیار ہیں، عمائدین ملک عباس علی، عید نواز اور دیگر نے کہا کہ صوبائی وزیر شاہ محمد خان نے رشوت، بدعنوانی اور بد دیانتی کا بازار گرم کیا ہوا ہے انہوں نے ترقیاتی اسکیمز اور نوکریوں کی بندربانٹ کیلئے امیرزادہ کو مقرر کر رکھا ہے۔
علاقہ عمائدین نے کہا کہ جونیئر کلرک امیر زادہ شاہ محمد خان کا ہم زلف ہے جسے محکمۂ خوراک میں تعینات کیا گیا جو شاہ محمد خان کا فرنٹ مین ہے۔ رشوت خوری کیلئے باقاعدہ مول تول ہوتی ہے، ٹھیکے، اسکیمیں اور سرکاری نوکریاں رشوت لے کر بیچ دی جاتی ہیں۔ شاہ محمد خان ہماری رہائشی زمینیں بھی ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔
عمائدین نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر بنوں کے ذریعے ہماری زمینوں پر سیکشن 4 لگوا دی گئی۔ شاہ محمد خان سن 2013ء میں اکرم درانی کے فرنٹ مین کے طور پر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔ انہیں فوراً وزارت سے ہٹایا جائے، کرپشن پر انکوائری ہونی چاہئے اور انہیں بدعنوانی کی سخت سے سخت سزا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: 300 سے زائد افراد کا احتجاج، پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں









