باغ :پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جنگ کرنی ہے یا امن کرنا ہے؟، فیصلہ کشمیریوں کے حکم پر کریں گے،کشمیر کے فیصلے کشمیری عوام کریں، ہم کسی کی ڈکٹیشن نہیں مانتے،کوئی کٹھ پتلی جماعت کشمیریوںسے ہمارا تعلق نہیں توڑ سکتی۔
پاکستان کا وزیراعظم عمران خان، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جیتنے کی دعا کرتا رہا ہے، کسی کٹھ پتلی کو کشمیر کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
(ن)لیگ نے آپ کیلئے کیا کیا؟ یہاں کی حکومت نے آپ کو لاوارث چھوڑا، ہم نہیں چھوڑیں گے، ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں بات کرنے والے ذرا آئینہ دیکھیں،کلبھوشن کو این آر او دینے والے بھٹو کو غدار کہہ رہے ہیں۔
انتخابی جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیری حکم کریں، جنگ کرنی ہے تو ہم ساتھ ہوں گے، کشمیری حکم کریں گے کہ امن کرنا ہے تو ہم امن کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کشمیر کے فیصلے کشمیری عوام کریں، ہم کسی کی ڈکٹیشن نہیں مانتے، عوام کا حکم مانتے ہیں۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ 25 جولائی اذزاد کشمیر کے لئے امتحان ہے، الیکشن شفاف ہوئے تو یہ نشستیں پیپلز پارٹی کی ہوں گی۔
انہوں نے کہاکہ عوام نے ساتھ دیا تو ہم باغ کی قسمت بدل دیں گے، پیپلز پارٹی کا آپ سے تین نسلوں کا رشتہ ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ باغ کے جیالوں نے کارساز میں بی بی کا استقبال کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، کوئی کٹھ پتلی جماعت آپ سے ہمارا تعلق نہیں توڑ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو جب وزیراعظم تھیں تو پوری دنیا پاکستان کی بات سنتی تھی ،آج کٹھ پتلی بات کرتا ہے تو لوگ مذاق اڑاتے ہیں۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ کٹھ پتلی کشمیر کا ذکر کرتا ہے تو غلطی کرتا ہے، آپ کو عوامی وزیراعظم چاہیے یا کٹھ پتلی وزیراعظم چاہیے؟۔
مزید پڑھیں: کشمیری اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرینگے،وزیر اعظم کا دوریفرنڈم کروانے کا عندیہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








