مشتاق مہر کے نام پر کابینہ کی اکثریت نے تحفظات کا اظہار کیا، فردوس عاشق اعوان

تازہ ترین

تازہ ترین

firdous ashiq murad saeed
firdous ashiq murad saeed

اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ کے لیے مشتاق مہر کے نام پر وفاقی کابینہ میں شامل سندھ سے تعلق رکھنے والے وزرا سمیت اکثریت نے تحفظات کا اظہارکیا۔

وفاقی وزیر مراد سعید کے ہمراہ میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے فردوش عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات میں چند نام میں اتفاق رائے اور بات چل رہی تھی۔

فردوس عاشق اعوان نے آگاہ کیا کہ جب یہ نام کابینہ میں رکھے گئے توسندھ سے تعلق رکھنے والے وزرا سمیت اکثریتی اراکین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا، اس معاملے کو گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ کی مشاورت کے بعد کابینہ کے ایجنڈے میں لایا جائے گا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ کراچی کے اندر سیاسی طور پر نشانے بنانے کے عمل کو سامنے رکھ کر اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے گورنر سندھ کو وزیراعلیٰ سے ایک مرتبہ پھر مشاورتی عمل شروع کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ نام اور نئے نام جن پر دونوں کا اتفاق رائے ہو ان کو کابینہ کے سامنے لایا گیا اور مشتاق مہر کی تعیناتی کے حوالے سے اختلاف سامنے آیاہے۔

اس موقع پر مراد سعید کا کہناتھا کہ کابینہ نے شریف خاندان، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی سے کیمپ آفسسز اور سیکیورٹی کی مد میں خرچ کی گئی رقم ایک مہینے میں واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا میڈیا کے سرکاری اشتہارات ورکرز کی تنخواہوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ

مراد سعید نے کہا کہ ماضی میں قومی اداروں کو گروی رکھ کر قرضے لیے گئے، 10 سال میں 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ اس قدر قرضوں کے باوجود ملک میں صحت اور تعلیم سمیت کسی شعبے میں بہتری نہیں آئی۔

مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان قوم کے ٹیکس کا پیسہ بچارہے ہیں، وہ وزیراعظم ہاؤس کی بجائےبنی گالہ میں ذاتی رہائش گاہ میں مقیم ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزارت عظمٰی کے دوران ملتان اور لاہور میں 5 کیمپ آفسز بنا رکھے تھے۔

ان کا کہناتھا کہ آصف زرداری نے 3 کیمپ آفس رکھےتھے، آصف زرداری نے سیکیورٹی کےنام پر163ارب سے زائد کے اخراجات کیے، شریف خاندان کے لئے سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 2753 تھی، جاتی امراکی سیکیورٹی پر 214 کروڑ 13لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

Related Posts