لاہور :احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے نیب کے حوالے کردیا۔
احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ اپوزیشن لیڈر کو 13 اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران شہباز شریف نے عدالت میں اپنا دفاع کرتے ہوئے دلائل دیئے کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کی وجہ سے انصاف نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری حکومت نے پنجاب میں گنے کی قیمت میں کمی نہیں کی اور نہ ہی ہماری کسی پالیسی سے کسانوں کا نقصان ہوا۔
دوسری جانب عدالت نے شہباز شریف کی بیٹی کی عدالتی سماعت کے دوران پیشی سے استثنیٰ کی استدعا منظور کرلی ہے۔ جویریہ علی کے نمائندے ان کی جگہ عدالت میں پیش ہوں گے۔
اس حوالے سے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما ء میاں محمد نواز شریف نے کہا تھا کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے اے پی سی کی قرارداد کی تصدیق اور توثیق ہوگئی ہے۔
پیر کو ایک ٹویٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما ء کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ آل پارٹیز کانفرنس میں جو بھی فیصلے کیے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کیا جائے گا ۔نواز شریف نے لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔