عدالت نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و رکنِ قومی اسمبلی خورشید شاہ کی رہائی کا فیصلہ معطل کردیا ہے جبکہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔
سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ میں ایم این اے خورشید شاہ کی رہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی گئی جس کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) حکام نے خورشید شاہ کی رہائی کو چیلنج کیا۔
احتساب بیورو (نیب) حکام نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے خلاف ریفرنس دائر کردیا ہے۔ ملزم پر کروڑوں کی کرپشن کے الزامات ہیں۔ عدالت خورشید شاہ کی رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔
وکیلِ صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سکھر کی احتساب عدالت نے میرے مؤکل کی درخواستِ ضمانت منظور کی تھی لیکن خورشید شاہ کو نوٹس نہیں دیا گیا۔
ہائی کورٹ سکھر کے 2 رکنی بینچ نے احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کردیا اور ہدایت کی کہ ملزم خورشید شاہ کو 16 جنوری تک دستاویزات کے ہمراہ پیش کیا جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کی رہائی کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم حرکت میں آگئی، رہائی عمل میں آنے سے قبل ریفرنس دائر کردیا گیا جس میں پی پی رہنما پر کروڑوں کی بدعنوانی کا الزام ہے۔
آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) ٹیم کی طرف سے داخل کیا گیا ریفرنس کروڑوں کی کرپشن پر دستاویزات فراہم کرتا ہے۔ ریفرنس کے مطابق رکنِ قومی اسمبلی خورشید شاہ نے 1 سو 23 کروڑ روپے کی خوردبرد کی۔
مزید پڑھیں: نیب نے خورشید شاہ کے خلاف ریفرنس دائر کردیا،
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








