کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی، مسائل سے عدم دلچسپی اور واٹر بورڈ کی نا اہلی کے باعث ملک کے سب سے بڑے شہر میں پیدا ہونے والے پانی کے بحران کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت بدھ 8ستمبر کو شاہراہ فیصل پر واٹر بورڈ ہیڈ آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا اہل کراچی کے احساسات و جذبات کا ترجمان ہوگا۔
جماعت اسلامی تین کروڑ سے زائد عوام کے جائز اور قانونی حقوق اور شہر کے گھمبیر مسائل کے حل کے لیے ”حقوق کراچی تحریک“ جاری رکھے گی۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے عوام تعمیر و ترقی اور مسائل کے حل کے لیے 12ستمبر کو ترازو کے نشان پر مہر لگا کر جماعت اسلامی کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔
جماعت اسلامی ہی کنٹونمنٹ سمیت شہر کے دیگر علاقوں کے مسائل حل کر سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کنٹونمنٹ بورڈ فیصل وارڈ 1میں نامزد امیدوار نجیب الرحمن کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر نامزد امیدوار نجیب الرحمن، امیر ضلع ائیر پورٹ توفیق الدین صدیقی، ناظم اعلیٰ علاقہ ماڈل کالونی عبد الحسیب، مصدق الحق، ابو اصلاحی صدر مسجد رحمانیہ کمیٹی،حبیب ناگوری اور دیگر بھی موجود تھے۔
جلسے میں اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور جماعت اسلامی کی کوششوں اور جدو جہد کو سراہا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ مردم شماری میں کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کردیا گیا۔
اسد عمر اہل کراچی کو جواب دیں 19 ہفتے گزرنے کے باوجود مردم شماری کی تصحیح سے متعلق کوئی ٹی آر اوز کیوں نہیں بنے۔ موجودہ اور ماضی کی حکومتوں اور حکمران پارٹیوں کے لیے باعث شرم ہے کہ ملک کے سب سے بڑے اور تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں آج تک پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکااور پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت زندگی ایک بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
صورتحال اتنی سنگین ہوگئی ہے کہ شہر کی غریب اور نسبتاً پسماندہ علاقوں اور بستیوں میں ہی نہیں ڈیفنس،کلفٹن جیسے پوش علاقوں میں بھی شہری پانی کی قلت اور عذاب کا شکار ہیں، اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں واٹر بورڈ اور عملے کی نااہلی و کرپشن،ٹینکر مافیا سے ان کی ملی بھگت،پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور سیاسی بھرتیوں کے علاوہ کراچی کو ضرورت کے مطابق پانی کی عدم دستیابی شامل ہیں۔
جب کہ ایک بڑی وجہ K4منصوبے کی عدم تکمیل ہے۔نعمت اللہ خان کے دور میں شروع کیے گئے اس منصوبے سے کراچی کو650ملین گیلن یومیہ پانی ملنا تھا جو بدقسمتی سے نہ مل سکا۔وفاقی وصوبائی حکومتوں نے کراچی کے لیے پانی کے اس میگا پروجیکٹ کے حوالے سے مسلسل مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔
مزید پڑھیں: کراچی کو 7 کے بجائے ایک ڈسٹرکٹ کی صورت میں بحال کیا جائے، مصطفیٰ کمال
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








