نوکریوں سے برطرف کئے گئے سرکاری ملازمین کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا

تازہ ترین

تازہ ترین

نوکریوں سے برطرف کئے گئے سرکاری ملازمین کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا
نوکریوں سے برطرف کئے گئے سرکاری ملازمین کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا

اسلام آباد:شہر اقتدار میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے گزشتہ رات سے ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے برطرف کیے گئے سرکاری ملازمین نے دھرنا دے دیا۔

دھرنا پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن کے دوران دیا گیا ہے، دھرنے میں ملک بھر سے مختلف محکموں سے نکالے گئے تقریبا 16500 سابق سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ بھی موجود ہیں ہیں۔

ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی،لاڑکانہ،سکھر اورلاہور اور ملک کے دیگر شہروں سے آئے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں فوری طور پر بغیر اطلاع کے نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا تھا جو کہ سراسر ظلم ہے۔

ہم عمر کے آخری حصے میں ہیں ہمیں اور کوئی کام نہیں آتا ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں ہم بے روزگار ہو چکے ہیں نہ ہی ہمیں پنشی دی گئی اور نہ ہی بقایاجات دیئے گئے ہمارے بچے بھوک سے نڈھال ہیں۔

ہم پریشان حال ہیں یہ فیصلہ اتنی عجلت میں کیا گیا جو کہ ہماری سمجھ سے باہر ہے حکومت کی طرف سے جو مذاکراتی کمیٹی بنائی گئی ہے ہم اس کمیٹی کو نہیں مانتے ہمارا پرامن احتجاج ہے اور صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں فورا بحال کیا جائے۔

کمیٹی سے مذاکرات کرکے ہمارا پیٹ نہیں بھرے گا کمیٹی ہمیں صرف لولی پاپ دے گی ہم اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئے ہیں اور تب تک ہم یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک ہمیں بحال نہیں کیا جاتا۔

ملازمین کا کہنا تھا کہ یہ ایکٹ دونوں ایوانوں سے پاس ہوا تھا اس کو پارلیمنٹ میں لانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔برطرف کئے گئے چاروں صوبوں کے ملازمین نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر ملازمت پر بحال کیا جائے۔

Related Posts