اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 کے ضمنی انتخاب کے دوران مکمل تفتیش کے بغیر نتائج جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ ہمیں این اے 75 کے انتخابی نتائج غیر ضروری تاخیر سے موصول ہوئے۔ ہم نے پریزائڈنگ افسران سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی، لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی انتخاب کا نتیجہ روکنے کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا کہ کافی تگ و دو کے بعد صبح 6 بجے پریزائڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ساتھ حاضر ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی آر او اور آر او نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اطلاع دی کہ حلقہ این اے 75 کے 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں ردوبدل کا شبہ ہے۔ مکمل انکوائری کیے بغیر نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حلقے میں پولنگ کی تفصیلی رپورٹ تیار کی جارہی ہے جو ڈی آر او ہمیں ارسال کرے گا۔ کمیشن نے ڈی آر او کو ضمنی انتخاب پر مکمل تحقیقات اور ردوبدل کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 پر ریٹرننگ آفیسر نےانتخابی نتائج روک دیے جبکہ ن لیگی رہنما احسن اقبال نے دوبارہ پولنگ کروانے کامطالبہ کردیا۔
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ این اے 75 کے کچھ پولنگ اسٹیشنز پر گھنٹوں پولنگ بند رکھی گئی جسکی وجہ سے سارانتیجہ مشکوک ہوگیا۔
مزید پڑھیں: این اے75 ڈسکہ، آر او نے انتخابی نتائج روک دیئے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








