سندھ کے مسائل کا حل گررنر راج نہیں آرٹیکل 140 اے میں پنہا ہے، فواد چوہدری

تازہ ترین

تازہ ترین

سندھ کے مسائل کا حل گررنر راج نہیں آرٹیکل 140 اے میں پنہا ہے، فواد چوہدری
سندھ کے مسائل کا حل گررنر راج نہیں آرٹیکل 140 اے میں پنہا ہے، فواد چوہدری

کراچی: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آئین میں گورنر راج لگانے کی گنجائش موجود نہیں مگر لوگ پھر بھی کہہ رہے کہ سندھ میں گورنر راج نافذ کردیا جائے۔ آرٹیکل 140 اے آرٹیکل 140اے کا نفاذ ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے سندھ کو اس کا حق مل سکتا ہے۔

کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایک فرد کو ربڑ اسٹمپ کے طور پر وزیراعلیٰ سندھ بنا دیتے ہیں اور زرداری فیملی اسے اپنی مرضی سے چلاتی ہے۔

سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نےکہا کہ کراچی کو پیسہ ملتا ہے مگر سندھ کے مسائل حل نہیں ہورہے ۔ تو یہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟ کراچی پولیس میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ جرائم پر قابو پاسکے اور امن و امان قائم کرنے کی بنیادی ذمے داری پوری کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کا پانی پنجاب نہیں بلاول زرداری ، مراد علی شاہ اور سندھ کابینہ کے لوگ چوری کر رہے ہیں، آصف زرداری اور ان کی بہن کی زمینوں کا پانی تو کبھی کم نہیں ہوا، غیرجانبدار مبصرین کو لگانے دیں پتہ چل جائے گا کہ کتنا پانی آیا اور کتنا پانی کا اخراج ہوا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ میں پرانی اسکیمیں مکمل نہیں ہوئی تو نئی اسکیمیں کیسے رکھیں،یہ چاہتے ہیں کہ اسکیم ملے، اپنے ٹھیکدار سے شروع کروائیں اور بھول جائیں ، یہ چاہتے ہیں کہ پیسہ ڈائریکٹ ان کو ملے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہیسہ ڈائریکٹ عوام پر لگے،یہ پیسہ سندھ میں نہیں بلکہ دبئی میں لگاتے ہیں۔

واضح رہے کہ آئین کا آرٹیکل 140 اے بلدیاتی حکومتوں سے متعلق ہے۔ اس آرٹیکل میں درج ہے کہ ہر صوبہ مقامی حکومتیں قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمے داریاں نچلی سطح تک لے جا کر مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو تفویض کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم کو پیپلزپارٹی میں شمولیت کا مشورہ دے دیا

Related Posts