امیر جماعتِ اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کو2044 تک لائسنس دینا قابلِ مذمت ہے، یہ اقدام کراچی سے کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کو آئندہ 20 سال کیلئے لائسنس جاری کرنے پر ردِ عمل دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کے ای حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔
اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کے الیکٹرک کراچی کے عوام کو لوٹ رہی ہے جو بلا تعطل اور سستی بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔نگران حکومت طویل المدتی فیصلوں سے باز رہے۔
جماعتِ اسلامی کراچی کے سربراہ نے کہا کہ کے الیکٹرک کو2044 تک کا لائسنس دینا قابلِ مذمت اور کراچی سے کھلی دشمنی ہے جبکہ کے ای این ٹی ڈی سی کا 62 ارب روپے کا نادہندہ ادارہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کے الیکٹرک نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے 172ارب روپے دینے ہیں جبکہ کراچی کے عوام کے بھی 52 ارب روپے کے الیکٹرک جیسے ادارے پر واجب الادا ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل شہر قائد میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کو بجلی تقسیم کا نیا لائسنس جاری کر دیا گیا، جس کے تحت کے الیکٹرک 2044 تک کام کرسکے گی۔
گزشتہ روز اس حوالے سے ذرائع کا دعویٰ تھا کہ نیشنل کے الیکٹرک کو الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 20 سال کیلئے لائسنس جاری کیا جبکہ 6 ماہ کے عبوری لائسنس کی مدت گزشتہ روز پوری ہوگئی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








