چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے نیب قوانین میں تبدیلی چوری بچانے کیلئے کی جبکہ پبلک آفس ہولڈر کو اپنے اثاثے بتانے پڑتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے لاہور میں ٹریڈ یونین ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں پبلک آفس ہولڈر ہوں تو اپنے اثاثے مجھے بتانے ہیں۔
نیب قوانین میں ترمیم سے انصاف کی سزائے موت ہوگئی، شیخ رشید
ٹریڈ یونین ورکرز کنونشن سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ میں تو پاکستان میں پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا، کرکٹ کھیلتا تھا۔ پھر بھی 40سال پرانے معاہدے دکھائے اور پیسہ پاکستان لے کر آیا۔
خطاب کے دوران عمران خان نے نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کرکٹر منی ٹریل دے سکتا ہے تو 3 بار کا وزیر اعظم کیوں نہیں دے سکتا؟ کیسز معاف کرکے مزید ڈاکے ڈالنے کا این آر او دیا گیا۔
نیب ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایک غریب ملک میں ایسی چوری کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ چوری بچانے کیلئے ہی نیب قوانین میں تبدیلی کی گئی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت روس سے سستا تیل لے رہا ہے۔ پاکستان کی ریٹنگ سب سے نیچے چلی گئی۔ مریم نواز کے بھائی نے 4 سال بعد تسلیم کیا کہ ان کے اثاثے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ان کو جو این آر او مل رہا ہے، ملک سے اس سے بڑی دشمنی کوئی نہیں کرسکتا۔ نواز شریف نے تسلیم کیا کہ اثاثے ہمارے ہیں تو یہ پیسہ کدھر سے آیا؟
انہوں نے کہا کہ جج نیب سے پوچھ رہا ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا نہیں بتا سکتا، پھر بری یہ ہوگئے۔انہوں نے ملک میں ڈاکہ ڈالنے کا لائسنس دے دیا ہے۔ جو قانون بنایا اس سے چھوٹا چور پکڑا جائے گا، بڑا نہیں۔
عمران خان نے کہا کہ اس سے بڑی ناانصافی بنانا ری پبلک میں بھی نہیں۔ ان کو بری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وائٹ کالر کرائم پکڑا ہی نہیں جاسکتا۔ اس ناانصافی کے خلاف قوم کو کال دوں گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








