کراچی: پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی صائمہ ندیم نے کہا ہے کہ 4 سالہ علیشاہ اور اس کی ماں کے ساتھ زیادتی کا واقع ہمارے معاشرے میں موجود گھٹیا اور مجرمانہذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔اور یہ قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اسی حوالے سے زینب بل پارلیمنٹ سے منظور کروا کر سخت قانون نافذ کردیا ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں قانون پر عمل نہیں کریں گی تو وفاقی حکومت کو اس قانون میں مداخلت کا اختیار حاصل ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ایم نیوز ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ درندہ صفت مجرم کو 4 سالہ معصوم علیشاہ پر زرا سا بھی ترس نہ آیا جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مجرم درندہ صفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایسی وارداتوں کی روک تھام کے لیے ہی نیا قانون منظور کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان نے معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں کہ کسی کو موت کی سزا نہیں دی جائے گی ورنہ جو سزائیں عرب ممالک میں رائج ہیں ان کے اثرات بھی مثبت ملتے ہیں اور وہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ سعودی عرب بھی اقوام متحدہ کا رکن ہے پھر وہاں کیوں ان سزاؤں پر پابندی نہیں ہے، تو رکن قومی اسمبلی صائمہ ندیم نے کہا کہ ایسی سزاؤں کا اطلاق جرائم میں کمی لاتا ہے اور اب جبکہ یورپی و دیگر مغربی ممالک میں ایسے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے تو انہیں بھی اب انسانی حقوق کے نام پر بند کی گئی ان سزاؤں میں دلچسپی نظر آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو انسانی حقوق میں ان انسانوں کا خیال رکھنا چاہیے جو کمزور ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے در بدر ہو رہے ہیں۔ صائمہ ندیم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت وزیر اعظم عمران خان کی قیادت مین غریب اور پسے ہوئے طبقے کو سستے اور آسان انصاف کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 سالہ عیلشاہ اور اس کی ماں کے مجرموں کو سخت سزا دلوانے کی کوشش جاری رہے گی اور اگر اس میں صوبائی حکومت کی کوتاہی نظر آئی تو وفاقی حکومت حرکت میں آئے گی اور اپنا قانونی اختیار استعمال کرے گی۔