سکھر:پیپلزپارٹی رہنماء خورشید شاہ کے صاحبزادے ایم پی اے فرخ شاہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کردیا۔
عدالت نے نیب کو فرخ شاہ کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کردیئے، احتساب عدالت کے جج کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے کاروائی سیشن کورٹ میں ہوئی، نیب نے فرخ شاہ کو حراست میں لے لیا۔
رکن سندھ اسمبلی فرخ شاہ ان کے والد پیپلزپارٹی رہنما خورشید شاہ ،بھائی زیرک شاہ ،بہنوئی صوبائی وزیر اویس شاہ سمیت اٹھا رہ افراد کے خلاف سکھر کی احتساب عدالت میں ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کے الزام میں نیب ریفرنس زیر سماعت ہے ۔
مقدمے میں ضمانت کیلئے ایم پی اے سید فرخ شاہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کررکھی تھی جس پر گذشتہ دنوں سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ نے ان کو تین دن کے اندر خود کو احتساب عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا ۔
آج تین دن پورے ہونے پر انہوں نے احتساب عدالت کے جج کے رخصت ہونے کی وجہ سے خود کو تھرڈ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش ہوکر خودکو سرنڈر کردیا عدالت میں پیشی کے موقع پرپیپلزپارٹی کے کارکنوں نے ان کا آمد پر شاندار استقبال کیا اور ان پرپھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔
اس موقع پر سندھ کے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سندھ سید اویس قادر شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے عدالت میں سماعت کے دوران نیب حکام کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے انہیں طلب کرلیا۔
بعدازاں سماعت کی سماعت کے دوران وکلاء کے دلائل کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سناتے ہوئے عدالت کے جج نے نیب کو فرخ شاہ کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کردیئے جس کے بعد نیب نے فرخ شاہ کو حراست میں لے لیا واضح رہے کہ فرخ شاہ کے والد اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ بھی نیب کی حراست میں ہیں۔