کروز شپ کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا الزام بے بنیاد ہے۔محمود مولوی

تازہ ترین

تازہ ترین

کروز شپ کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا الزام بے بنیاد ہے۔محمود مولوی
کروز شپ کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا الزام بے بنیاد ہے۔محمود مولوی

کراچی: وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے بحری امور محمود مولوی نے کہا ہے کہ کروز شپ کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا الزام بے بنیاد ہے جبکہ جہاز کو تفریحی مقاصد کی بجائے اسکریپ کیلئے خریدا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی پہنچنے والے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے بحری جہاز کے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاونِ خصوصی محمود مولوی نے کہا کہ 1200 کمروں کا جہاز اسکریپ کیلئے 2 ارب میں خریدا گیا تھا۔

  یہ بھی پڑھیں:

ملکی تاریخ کے سب سے بڑے محل نما بحری جہاز کو توڑنے کا فیصلہ

سندھ حکومت کا بلدیاتی ترمیمی بل مسترد، گورنر اور وزیر اعلیٰ آمنے سامنے 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےمعاونِ خصوصی محمود مولوی نے کہا کہ جہاز سے متعلق کنٹریکٹ (معاہدے) سے واضح رہے کہ کروز شپ صرف اسکریپ کیلئے استعمال کیاجاسکتا ہے اور اس معاملے پر شعبۂ بحری امور کی پالیسی واضح ہے۔

گفتگو کے دوران معاونِ خصوصی محمود مولوی نے کہا کہ دنیا بھر سے جہاز اسکریپ کیلئے گڈانی لائے جاتے ہیں۔ جسے کروز شپ لانا ہے وہ کراچی سے گوادر اور پھر دبئی لے جائے۔ حکومتِ پاکستان اور میری ٹائم مکمل تعاون کریں گے۔ 

خیال رہے کہ اس سے قبل کراچی آنے والے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے محل نما بحری جہاز کو توڑنے کا فیصلہ کر لیا گیا، حکام کا کہنا تھا کہ جہاز کو تفریحی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔

اینتارس ایکسپیرئینس نامی لگژری کروز شپ کو توڑنے کا عمل گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کیلئے 6 سے 7 ماہ کا عرصہ درکار تھا۔لگژری کروز شپ 2 دسمبر کے روز پاکستان پہنچا تھا۔ 

Related Posts