لاہور :پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کومنی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت میں پیش کیاگیا۔
نیب نے شہباز شریف کے اہل خانہ کے اثاثے منجمد کرنے سے متعلق عدالت میں رپورٹ پیش کردی، نیب عدالت نے اب تک چھ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔
اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز ، بیٹی رابعہ عمران اور دیگر کی جائیدادیں منجمد کرنے سے متعلق تفتیشی افسر کے ذریعے عدالت میں رپورٹ پیش کی تھی۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر شہباز شریف نے بتایا کہ سرکاری پینل میں کینسر کے مریضوں کے ساتھ کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے لہٰذا انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اپنے ذاتی ڈاکٹر کو بورڈ میں شامل کریں۔
نیب کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق شریف فیملی کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان نے شہباز خاندان کے لئے رقم کی منتقلی کی۔
محمد عثمان نے رمضان شوگر ملز میں 2005 میں شریف خاندان کے لئے 90000 روپے ماہانہ میں کام کرنا شروع کیا تھا۔
2006 میں نواز خاندان نے شہباز خاندان سے حدیبیہ انجینئرنگ حاصل کی اور 2007 میں شہباز خاندان نے اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے شریف فیڈ مل سمیت مزید کمپنیاں بنائیں۔