سابق میئر کراچی و رہنما متحدہ قومی موومنٹ وسیم اختر نے اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پر سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں معاہدے کی خلاف ورزی کرنے اور ‘مینڈیٹ چوری’ کرنے کا الزائد عائد کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کیے گئے ایم کیو ایم کے معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ دونوں جماعتیں اپنے مینڈیٹ کو قبول کرتے ہوئے اس کا تحفظ کریں گی۔
سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے رواں سال مارچ میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں ایم کیو ایم کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اگر وہ حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے لیے اپوزیشن اتحاد کی حمایت کرتی ہے تو حکومت ان کے تمام برسوں پرانے مطالبات کو پورا کرے گی۔
ایم کیو ایم کی طرف سے مطالبات پر اس معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا، ان میں بلدیاتی حکومت کے ڈھانچے سے لے کر مستقبل میں حکومت میں حصہ داری کا فارمولا اور سندھ میں مقامی سطح پر پولیس کی بھرتی کی پالیسی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
‘چارٹر آف رائٹس’ کے نام سے ہونے والے معاہدے کا پہلا نکتہ براہ راست سندھ میں بلدیاتی حکومت سے متعلق تھا، جس میں دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا تھا کہ مقامی حکومتوں کے حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر آئینی پٹیشن پر عدالت عظمیٰ کے دیے گئے فیصلے پر ایک ماہ کے اندر اور باہمی معاہدے کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے گا۔
دوران پریس کانفرنس وسیم اختر نے کہا کہ معاہدے میں شامل تمام نکات میں سے یہ اہم نکتہ تھا جس کی سندھ حکومت نے 14 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعدد علاقوں میں ان کی جماعت کے امیدوار اچھے مارجن کے ساتھ بڑی لیڈ پر تھے مگر نتائج روک لیے گئے اور ہمارا مینڈیٹ قبول نہیں کیا گیا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ پر زور دیا کہ وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ملاقات کریں اور حلقہ بندیوں پر نظر ثانی کریں۔
وسیم اختر نے کہا کہ اگر کراچی اور حیدرآباد میں بھی اسی طرح انتخابات ہوئے اور انتخابی بدانتظامی اور مینڈیٹ چورے کرنے کو نہ روکا گیا تو اس کا ذمہ دار الیکش کمیشن ہوگا، کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ 24 جولائی کو ہوگی۔
سابق میئر کراچی نے وزیر اعظم شہباز شریف پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر غور کریں اور ساتھ ہی اس بات کا افسوس بھی کیا کہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو آدھا ظاہر کیا گیا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی ناانصافی نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نے ہفتے کے روز ایم کیو ایم پاکستان کی تجویز پر اتفاق کیا تھا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد اور پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ایم کیوایم اراکین کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے اراکین پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔
الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے وسیم اختر نے خبردار کیا کہ اگر الیکشن کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے وقتی اقدامات نہیں کیے گئے تو 2023 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر بدانتظامی اور افراتفری ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو حقوق دلانے کے لیے ان کی جماعت نے تمام آپشن استعمال کیے ہیں، کیا ان مسائل کو حل کرنے کےلیے اب ہمیں روس اور چین سے رجوع کرنا چاہیے؟
ان کا کہنا تھا کہ انہیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ان الفاظ پر اعتماد ہے جس میں انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھر وعدے پر عمل درآمد میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔