عدم اعتماد کی تحریک ہمیشہ حکومتی ارکان توڑنے سے کامیاب ہوتی ہے،بلاول بھٹو

تازہ ترین

تازہ ترین

انتخابی اصلاحات کا بنیادی مقصد الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم کرانا ہے، بلاول بھٹو
انتخابی اصلاحات کا بنیادی مقصد الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم کرانا ہے، بلاول بھٹو

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک ہمیشہ حکومتی ارکان کو توڑنے سے کامیاب ہوتی ہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن پھر بھی پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے (ن) لیگ کا لیڈر متنازع شخصیت کا مالک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چئيرمين سينيٹ کےخلاف ہماری جدوجہد جاری ہے۔ پولنگ والے دن سينيٹ ہاؤس کو پوليس اسٹيشن ميں تبديل کرديا گيا اورپريزائڈنگ افسر نے غلط فيصلہ دے کر يوسف رضا گيلانی کا حق چھينا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرثانی کی  درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اگر عدالت نے میرٹ پر کیس کی سماعت کی تو جیت پیپلزپارٹی کے امیدوار کی ہوگی۔

مریم نواز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے الزامات کا جواب نہیں دینا چاہتا ہوں اور نہ ہی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہوں کیونکہ پی ڈی ایم کی بنیاد میں نے رکھی تھی۔

چئیرمین پیپلزپارٹی نے وضاحت کی کہ سليکٹڈ کا لفظ ميں نےديا تھا اورجانتاہوں کہ کس کیليے استعمال ہوسکتا ہے اور کس کيلئے نہيں۔ یوسف رضا گیلانی نے محنت اور مشکل وقت کے بعد دوبارہ عملی سیاست میں قدم رکھا۔ اپنے سینیٹر کو کيسے کہتے کہ یوسف رضا گيلانی کو ووٹ نہ ديں بلکہ اعظم نذير تارڑ کوووٹ ديں؟۔

پی پی21 ، اے این پی 2 ، فاٹا 2، جماعت اسلامی کا ایک رکن ملاتے تو 26 تعداد بنتی تھی اور دونوں جماعتوں کے ارکان کی تعداد 26،26 ہورہی تھی۔ ن لیگ کےسابق رکن دلاور نے اپوزیشن لیڈر کےلئے سپورٹ کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی اے پی کے سینیٹرز اپوزیشن بینچز پر بیٹھ رہے ہیں اور انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ یوسف رضا گیلانی کو ہدایت کی ہے کہ تمام جماعتوں کے ساتھ مل کرکام کریں۔

Related Posts