پاکستان بچوں سے جبری مشقت کی سنگین روایت ختم کرنے کیلئے پر عزم ہے۔شیریں مزاری

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈاکٹر شیریں مزاری کے خلاف اراضی کیس: کیا سچ ہے،کیا جھوٹ ؟
ڈاکٹر شیریں مزاری کے خلاف اراضی کیس: کیا سچ ہے،کیا جھوٹ ؟

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان بچوں سے جبری مشقت کی سنگین روایت ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقعے پر ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان آئینی طور پر اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت بچوں سے جبری مشقت اور استحصال ختم کرنا چاہتا ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت قانون اور اس پر عمل درآمد کے درمیان موجود خلاء پر کرنے کیلئے کام کر رہی ہے تاکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے جبکہ بچوں کا معاشی و سماجی استحصال ختم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیرِ مملکت شیریں مزاری نے کہا کہ وزارتِ انسانی حقوق کے تحت قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال قائم کردیا گیا ہے تاکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان کے بچوں کے حقوق بھی محفوظ ہوں۔ 

یاد رہے کہ وطنِ عزیز پاکستان سمیت دُنیا بھر میں چائلڈ لیبریعنی بچوں سے جبری مشقت  کے خلاف آگہی اُجاگر کرنے کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جبکہ بچوں سے مزدوری ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کا ایک سلگتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف (ادارۂ اطفال) کے مطابق آج 15 کروڑ 20 لاکھ بچے چائلڈ لیبر پر مجبور ہیں جنہیں جسمانی استحصال، مارپیٹ اور دیگر گوناگوں مسائل کا سامنا ہے جن کے حل کیلئے اقوامِ عالم کو آگے آنا ہوگا۔

مزید پڑھیں:  بچوں سے جبری مشقت کے خلاف  عالمی دن آج منایا جارہا ہے

Related Posts