اسلام آباد:سعودی عرب میں پیدا ہونے والے ضیاء بلوچ کو سعودی عرب سے پاکستان ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ضیاء بلوچ کے والدین 50 سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں،ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء بلوچ آبدیدہ ہو گیا اس کا کہنا تھا کہ میرا سارا خاندان سعودی عرب میں مقیم ہے جب کہ میرے دادا دادی سعودی عرب میں اپنی زندگی گزار کر فوت ہوچکے ہیں اور وہیں دفن ہیں۔
میں عرصہ چار سال قبل سعودی عرب میں ایک پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کمپنی الخالد جس کے مالک کا نام خالد زامل شریف کے ساتھ عرصہ سات مہینے سے بطور ڈرائیور کام کر رہا تھا اور مالک کے ساتھ 1900 ریال اور تنخواہ کا معاہدہ ہوا تھا اور ہر ماہ کمپنی کا مالک میری تنخواہ سے کچھ پیسے کاٹ لیتا تھا جبکہ ویزہ رینول اور دیگر اخراجات اقامہ وغیرہ کی فیس مذکورہ کمپنی کے ذمے تھی۔

عرصہ دو ماہ بعد جب میں نے کمپنی کے مالک سے پیسوں کی کٹوتی کے بارے میں پوچھا تو مجھے کمپنی کے مالک نے بتایا کہ گورنمنٹ فیس کی کٹوتی کی جا رہی ہے جو ہر ماہ کی جائے گی میں نے کمپنی کے مالک کے خلاف اس فراڈ کی بابت کیس دائر کرنا چاہا تو معلوم ہوا کہ پاکستانی ایمبیسی سے رجوع کریں۔

جب میں نے پاکستانی ایمبیسی میں متعدد مرتبہ چکر لگائے تو مجھے ذلیل و خوار کیا گیا نہ تو کیس دائر ہوا اور نہ ہی ایمبیسی کی طرف سے میری داد رسی کی گئی، میں ڈیڑھ سال تک در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا اور بعدازاں ویزا کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے مجھے بلیک لسٹ کردیا گیا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








