کراچی کے ضلع کیماڑی میں قائم ضلعی ریٹرننگ آفس میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے امیدواروں نے کارکنان کے ساتھ کیماڑی کے ڈی آر او آفس پر دھرنا دیا ہوا ہے، دونوں پارٹیوں کا مطالبہ ہے کہ ہمیں فارم گیارہ اور بارہ دیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے معاملے پر پی پی اور جماعت اسلامی کارکنان آمنے سامنے
مظاہرین کا یہ بھی الزام ہے کہ الیکشن کمیشن پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر نتائج تبدیل کررہا ہے۔
مظاہرہ کے دوران صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب دونوں طرف سے نعرے بازی کے بعد پی پی کارکنان نے پی ٹی آئی کے کیمپ پر دھاوا بول دیا، جس کے بعد آر او آفس میدان جنگ بن گیا۔
واقعے میں پی ٹی آئی رہنما علی زیدی بھی زخمی ہوگئے۔ اس موقع پر دونوں طرف سے ایک دوسرے پر شدید پتھراؤ کیا گیا۔ اس دوران پولیس فریقین کو روکنے میں ناکام رہی۔
واقعے کے بعد علی زیدی نے الزام لگایا کہ پی پی کارکنان نے منظم حملہ کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ پرپتھراؤہواہےمعمولی زخمی ہواہوں، ہمارےایم پی ایزکل سےنتائج کیلئےڈی آراوآفس کے باہر بیٹھے ہوئےہیں۔
علی زیدی کا کہنا تھا کہ میڈیاسےبات چیت کےدوران پولیس کی موجودگی میں پی پی کےغنڈےآئے اور ہمارے اوپر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں میڈیا کے افراد بھی زخمی ہوئے۔
دوسری طرف صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سوچی سمجھی سازش کےتحت حالات خراب کرناچاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج اورحملےکرکےمن پسندنتیجہ حاصل کرناچاہتی ہے، پی ٹی آئی ایسےہتھکنڈےاستعمال کرکے بلدیاتی نتائج میں تبدیلی چاہتی ہے، کسی کوبلدیاتی انتخابات کےنتائج میں مسئلہ ہےتوالیکشن کمیشن میں جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








