کراچی: شہر قائد کو پانی فراہم کرنے والے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے اضافی 100 ایم جی ڈی منصوبے میں پریشر وال لیک ہونے سے مذکورہ پمپنگ اسٹیشن بند کرنا پڑ گیا۔
کراچی شہر کو پانی کی فراہمی متاثر، انتظامیہ کے بروقت انتظامات کے باعث اضافی پانی کے پمپنگ اسٹیشن کی موٹریں تباہ ہونے سے بچ گئیں، ایک گھنٹہ پانی بند رہنے کے بعد دوبارہ پانی کی فراہمی رات گئے شروع کر دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ مذکورہ پمپنگ اسٹیشن ایک پرانے 1968 کے پمپنگ اسٹیشن کی جگہ تعمیر کیا گیا ہے، اور پرانا پمپنگ اسٹیشن بجلی کے بجائے ڈیزل سے چلتا تھا او راس سے با مشکل 70 ایم جی ڈی پانی ملتا تھا، جبکہ اس کی تنصیبات پرانی اور بوسیدہ ہو رہی تھیں۔
نیا اضافی پانی کا پمپنگ اسٹیشن بننے سے اب 100 ملین گیلن یومیہ پانی کراچی کو مل رہا ہے۔ جبکہ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے اب مجموعی طور پر 500 ایم جی ڈی پانی دستیاب ہے جبکہ حب بلوچستان میں موجود حب پمپنگ اسٹیشن سے 100 ایم جی ڈی پانی دستیاب ہے جو ضلع غربی کے علاقوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔
شہر کو کل 600 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جا رہا ہے، اس طرح شہر کو 1300 ایم جی ڈی ضرورت کے مقابلے میں صرف 600 ایم جی ڈی پانی فراہم کای جاتا ہے، جس کے باعث شہر کے کئی علاقے سال کے 12 مہینے پانی سے محروم رہتے ہیں اس کی بڑی وجہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔
پانی کی لیکیج کے حوالے سے چیف انجینئر دھابیجی پمپنگ اسٹیشن انتخاب عالم نے ایم ایم نیوز ٹی وی کو بتایا کہ جس وال سے ایئر نکالتے ہین اس مین آدھے انچ کا پائپ لگا ہوتا ہے۔ وہ پائپ نکل گیا تھا جس کے باعث پمپ کے قریب سے پانی نکلنا شروع ہو گیا تھا۔
کیوں کہ پمپنگ اسٹیشن ابھی نیا ہے اور اسے بنانے والی کمپنی کے ساتھ اس کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذمہ داری کامعاہدہ بھی ہے، اس لیے اسی کمپنی نے اس معاملے کو دیکھا اور اس کی مرمت کر دی۔