پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا، شہباز شریف

تازہ ترین

تازہ ترین

پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا، شہباز شریف
پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا، شہباز شریف

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا،وفاقی حکومت نے 3 سال کے دوران 50 لاکھ افراد کو بیروزگار کردیا، یہ لوگ اس وقت بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، غریب کے گھروں میں چولہا ٹھنڈا ہوچکا ہے، مہنگائی آسمان پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی آئی اے، اسٹیل ملز کے ہزاروں ملازمین کو بیروزگار ہم نے نہیں کیا؟ ہم نے بجلی کے اندھیرے دورکیے، انہوں نے قرضے لیے ایک دھیلے کا منصوبہ نہیں بنایا۔

جواب میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ لیگی صدر نے لوٹا ہوا پیسہ واپس لانا تھا، شہبازشریف کہتے تھے پیٹ پھاڑ کرزرداری سے پیسہ واپس لیں گے، خود ان کا بھائی لوٹ کربھاگ گیا، اب واپس آنے کو تیار نہیں۔

شہباز شریف نے شیریں مزاری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کس منہ سے ہمیں طعنے دے رہی ہے، کہاں گئیں ایک کروڑ نوکریاں، آج غریب کا چولہا ٹھنڈ ا پڑا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی اتنی مہنگائی نہیں دیکھی۔ غریب کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتفاق فاؤنڈری میرے بزرگوں نے مشینیں بیچ کر بینکوں کے قرضے ادا کیے، وزیرخزانہ نے کہا تھا پٹرول پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے، بجلی،پٹرول کی قیمتیں کہاں تک پہنچ گئی ہے، تاریخ میں ایسا مہنگائی کا طوفان نہیں آیا آج آسمان بھی رورہا ہے، یہ باتیں کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اس کے بعد ہم پر تنقید کریں۔

شہباز شریف نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔ 50 لاکھ ملازمین اس وقت بھیک مانگنے پر مجبور ہے، پاکستان سے تین سالوں میں پچاس لاکھ لوگوں کوبے روزگارکردیا گیا۔

شہباز شریف کی تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈرنے کچھ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بات کی، نوازشریف نے اسی ایوان میں کہا تھا کہ یہ ہے وہ ذرائع، نوازشریف نے ذرائع نہیں بتائے قطری خط پیش کیا۔

مزید پڑھیں: یوم امن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے،بلاول بھٹو

علی محمد کے نواز شریف سے متعلق الزامات پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کسی لمبی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، ریکارڈ درست کرنا چاہتا ہوں، میرے بھائی کو سزا پاناما نہیں بلکہ اقامہ میں ہوئی تھی، اگر حقائق پیش کرونگا تو لمبی بحث ہوجائے گی۔ایوان میں شہباز شریف کی تقریر کے بعد گرما گرم بحث چھڑ گئی۔

Related Posts