اخلاقیات سے عاری امتحانی پرچے پر کامسیٹس یونیورسٹی کیخلاف کارروائی کی جائے، قاری محمد عثمان

تازہ ترین

تازہ ترین

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان نے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے انگلش پرچے میں حیا باختگی اور اسلامی اقدار کو پامال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے انگلش پرچے میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑانا شرمناک اور ناقابل برداشت ہے۔

تعلیم کے نام پر قوم کے بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے۔ کامسیٹس یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ ذمہ داروں کا تعین کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک بیان میں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

مولانا عبد الغفور حیدری کا غیر اخلاقی امتحانی پرچے پر کامسیٹس یونیوسٹی سے معافی مانگنے کا مطالبہ

قاری محمد عثمان نے کہا کہ انگریزی تعلیم کا مقصد اگر فحاشی و عریانی پھیلانا اور اسلامی اقدار کو پامال کرنا ہے تو ایسی یونیورسٹیز معاشرے پر بوجھ ہیں۔ ہم تعلیم اور شعور کے علمبردار ہیں مگر اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ محرم و مقدس رشتوں کو جنسی آلودگی کا نشانہ بنانا کونسی تعلیم ہے؟ تعلیم تو شعور و آگہی کا نام ہے۔ تعلیم کو گالی بنانے والے معاشرے کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔

یہ بھی پڑھیں:

فقہاء کے نزدیک مردوں اور عورتوں کے اختلاط کا جواز

قاری محمد عثمان نے کہاکہ دینی مدارس کی اصلاح کی باتیں کرنے والے یونیورسٹیز کی فکر کریں جو معاشرے میں فساد کا سبب بن رہی ہیں۔ دینی مدارس سے بہتر معاشرے کی تصویر کوئی نہیں پیش کرسکتا۔ جہالت کی فیکٹریاں مدارس نہیں بلکہ نام نہاد مغربی تہذیب کے علمبردار ادارے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کامسیٹس یونیورسٹی کی انتظامیہ پوری قوم سے معافی مانگے اور اس قبیح عمل کے ذمہ داران کو قوم کے سامنے لائے۔ ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کوئی معاشرے کو آلودہ نہ کرسکے۔

Related Posts