کراچی :سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ ہم نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھا ہے، ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے یہ بہت افسوس کی بات ہے ہم قومی اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز ہارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ ہم ایک جدوجہد کر سکتے ہیں۔ہم نے مشترکہ مفادات کونسل کو کے بجائے قومی کو آرڈیننش کمیٹی تشکیل دی۔
بد قسمتی کے ساتھ پاکستان وفاقی حکومت بہت سارے معاشی پیکیج کا اعلان کر رہی ہے، صنعتی شعبہ کے لیے لیکن پارلیمان کو اعتماد میں لیا جارہا ہے۔
صحت، احساس پروگرام، انفارمیشن ، اوورسیز پاکستانی ٹائیگر فورس جو ان کو کنٹرول کر رہے ہیں وہ معاون خصوصی ہیں۔وہ منتخب ارکان نہیں ہیں۔
قومی اسمبلی کے ارکان اس وقت اپنے حلقوں میں مصروف ہوں گے۔قومی اسمبلی کے 342 ارکان ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں ان کو جمع کرنا مناسب نہیں ہوگی۔میں نے سینیٹ کی بات کی ہے اس کے 104 ارکان ہیں۔
کورونا وائرس سے ریلیٹڈ میٹر کو سیٹ میں لایا جائے۔جو میٹریل پاکستان کو موصول ہوا۔احساس ریلیف ، فنانشل پیکیج جو وفاق نے اعلان کیا ہے وہ سینیٹ میں بحث کیا جائے۔ورلڈ بینک کی جو اسسمنٹ آئی ہے کہ پاکستان کا گرورتھ ریٹ منفی میں جاسکتا ہے۔
یو اے ای نے ان ممالک سے کہا ہے ان کو واپس لے جایا جائے اس پر پاکستان کی پوزیشن کا ہے۔ یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ نہ کوئی ادارہ کوئی لیڈر شپ دے سکے ہیں۔
پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ لیڈر شپ دے۔سینیٹ سے بہتر پارلیمان کا کوئی ہاؤس بہتر نہیں ہو سکتا ہے۔
وہاں سے ایک مشترکہ مسیج پاکستان کے عوام کو دیا جاسکتا ہے۔یہ پارلیمان کے لیے اہم ہے کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلاسکے۔
پارلیمان اس وقت لیڈر شپ رول دے سکتی ہے۔پارلیمان کو سیکھنا چاہیے۔ کام۔کے اس طریقہ کار سے جو اپنایا ہوا تھا۔
آئین آرٹیکل 55ہے جو کورم کی بات کرتا ہے۔ کہ کورم نہیں چل سکتا ۔ یہ غیر معمولی حالات ہیں تو کورم کو پوائنٹ آؤٹ نہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں:لاک ڈاؤن میں توسیع پر فیصلے کیلئے قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








