اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے اسٹیٹ بینک ایکٹ 2021 پر سخت ردعمل دے دیا۔ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک ایکٹ 2021 معیشت اور ملک کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔
سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے نئے ایکٹ سے پاکستان معاشی دلدل میں گرے گا جس کے نتیجے میں ملک اور عوام بھاری نقصان اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اسٹیٹ بنک ایکٹ 2021 کو ختم کردے گی اور آئینی عمل کو بائی پاس نہیں کرے گی،
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کا اسٹیٹ بینک اس ملک کے مجموعی مالیاتی نظام اور بینکاری کا مرکزی ریگولیٹر ہوتا ہے، اسٹیٹ بنک حکومت کی قومی پالیسی کے مطابق بینکوں کے کارکردگی کی نگرانی کرتا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک کا مرکزی بینک اور پاکستان کے عوام کی ملکیت ہے۔
سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر اسٹیٹ بینک ایکٹ 2021 لاگو ہو گیا تو اسٹیٹ بینک حکومت پاکستان کے ماتحت نہیں رہے گاجبکہ فیٹف کی مسلسل مداخلت نے پہلے ہی پاکستان کی معیشت کو تباہی و بربادی کے دہانے لا کھڑا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب آئی ایم ایف کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک کی نئی زبردستی نام نہاد آزادی قومی معشیت کو مزید تباہ کرنے والی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان اب کسی ایجنسی اور یہاں تک کہ ہمارے ملک کی پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ نہیں ہوگا۔
اس بات انکشاف کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایکٹ کی منصوبہ بندی ایک سال سے کی گئی تھی، میں اس معاشی آفت کے بارے میں مختلف اوقات میں بیانات دے کر اشارہ کرتا آ رہا ہوں،اسٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ پاکستان کی معیشت کے لئے ایک سونامی اور تاجر برادری اور عام آدمی کے لئے بمباری ثابت ہوگی،
رہنما پیپلزپارٹی رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میرا بیان ریکارڈ پر ہے کہ اسٹیٹ بینک مختلف بہانوں سے برآمدات کے ٹیلی گرافک منتقلی نظام پر پابندی لگا رہا ہے،اس ایکٹ کے بعد اسٹیٹ بینک سیاسی جماعتوں اور این جی اوز کسی بھی قابل اعتراض لین دین کی دستاویزات الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔