کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکسیشن سرٹیفکیٹ کے اجراء کا نادرا ڈی ایچ اے آفیس میں افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے نادرا کے ساتھ مل کر سکسیشن سرٹیفکیٹ کا کام شروع کیا ہے، * پہلے سکسیشن سرٹیفکیٹ عدالت کے ذریعے جاری ہوتا تھا۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عدالتیں 3 سے 6 ماہ اور کبھی کبھار 5 سال میں سکسیشن سرٹیفکیٹ جاری کرتی تھی ، سپریم کورٹ کے مطابق عدالت کے کل کام کا 30 فیصد ورک لوڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ کا ہوتا ہے۔ حکومت سندھ نے قانون میں ترامیم کرکے سکسیشن اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کا اجراء نادرا کے ذریعے کیا ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اب درخواست گزار کو نادرا کے دفتر میں انتقال کرنے والے شخص کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا، ڈیتھ سرٹیفکیٹ، ایفی ڈیوٹ، شناختی کارڈ اور قانونی ورثاء کا قانونی لیٹر کی کاپیاں جمع کرکے سکسیشن سرٹیفکیٹ مل سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نادرا نے سکسیشن سرٹیفکیٹ کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا ہے، اب یہ سکسیشن سرٹیفکیٹ 15 یوم میں نادرا سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے سکسیشن سرٹیفکیٹ کی فیس 22000 روپے مقرر کی ہے، اگر اثاثے ایک لاکھ سے زائد ہونگے، سکسیشن سرٹیفکیٹ کیلئے اگر اثاثے ایک لاکھ سے کم ہیں تو اس کی فیس 10000 ہوگی، حکومت سندھ کا یہ انقلابی قدم ہے اور یہ عوام کیلئے سہولت بن جائے گا۔