کراچی: سندھ حکومت نے آئی جی سندھ کلیم امام کو ہٹانے اور نئے آئی جی سندھ کی تقرری کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھے گئے خط میں 3 افراد کے نام تجویز کردئیے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھے گئے خط میں سندھ حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ کلیم امام کو ہٹا کر ان کی جگہ غلام قادر تھیبو، کامران فضل یا مشتاق مہر کو آئی جی سندھ مقرر کیا جائے۔
وفاق کی مشاورت کے بعد تجویز کردہ تینوں ناموں میں سے کسی بھی ایک نام پر جلد اتفاقِ رائے متوقع ہے جس کے بعد آئی جی سندھ کلیم امام کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔
چیف سیکریٹری سندھ کے ذریعے بھیجے گئے خط میں وفاق سے استدعا کی گئی ہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کی جگہ مجوزہ ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے۔ موجودہ آئی جی سندھ کو ہٹایا جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل عدالت نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کلیم امام کو ہٹانے کے صوبائی حکومت کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کردیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں گزشتہ روز صوبائی حکومت کے یکطرفہ فیصلے پر ریمارکس دیتے ہوئے معزز جج نے کہا کہ وفاق سے مشاورت اور سوال و جواب کے بغیر آئی جی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے کہا کہ اگر حکومتِ سندھ صوبائی آئی جی کو تبدیل کرنا ہی چاہتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائے۔ آئینِ پاکستان کے تحت آئی جی کو ہٹانے کا طریقہ کار درست نہیں۔
مزید پڑھیں: آئی جی سندھ کو ہٹانے کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناع
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








