شہباز شریف اور سراج الحق کی ملاقات، تحریکِ عدم اعتماد پر اتفاق نہ ہوسکا

تازہ ترین

تازہ ترین

شہباز شریف اور سراج الحق کی ملاقات، تحریکِ عدم اعتماد پر اتفاق نہ ہوسکا
شہباز شریف اور سراج الحق کی ملاقات، تحریکِ عدم اعتماد پر اتفاق نہ ہوسکا

اسلام آباد: ن لیگ کے صدر و قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی شہباز شریف اور امیر جماعتِ اسلامی سینیٹر سراج الحق کے مابین وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ دونوں سیاسی رہنماؤں کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف اور امیر جماعتِ اسلامی کی ملاقات اسلام آباد میں میاں اسلم کی رہائشگاہ پر ہوئی۔ سینیٹر سراج الحق نے ن لیگی رہنماؤں کے وفد کا استقبال کیا جس میں خواجہ سعد رفیق اور مریم اورنگزیب شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں:

عوامی رابطہ مہم، وزیر اعظم کا لوئر دیر میں جلسۂ عام سے خطاب کا فیصلہ

ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ شہباز شریف نے امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق سے تحریکِ عدم اعتماد پر حمایت کی درخواست کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہ 22کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔

گفتگو کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہے، عدم اعتماد کی تحریک جمع کرادی گئی ہے۔ تحریکِ انصاف کے لوگوں سے بھی بات کریں گے کہ ہمارا ساتھ دیں۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ عوام کی خدمت کی جائے۔

قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی شہباز شریف نے کہا کہ ہم یہاں اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ حکومت کو عوام کے ووٹوں کی مدد سے خدا حافظ کہا جائے۔ آئینی طریقے سے حکومت ہٹائیں گے۔ آج وہ دعوے کہاں گئے جو عمران خان نے کیے تھے؟

دوسری جانب امیر جماعتِ اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت بری طرح ناکام ہے۔ شہباز شریف نے تحریکِ عدم اعتماد کیلئے آپشنز دئیے۔ حکومت نے پانی اور خوراک کے ہر لقمے پر ٹیکس لگا دیا۔ عوام کی زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم ن لیگ کے صدر کی تجاویز پر مشورہ کریں گے۔ اس کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ افراد کی بجائے نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کو بھی عوام سے رجوع کا مشورہ دیا ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ شہباز شریف نے ہماری تجاویز سے ایک حد تک اتفاق کیا۔ خواہش ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر انتخابی اصلاحات کریں۔ چہروں کی تبدیلی مسائل کا حل نہیں۔ امید کرتے ہیں تمام سیاسی جماعتیں اس پر غور و فکر کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اللہ کا نظام نافذ نہیں ہوا، اس لیے قومی وحدت بھی خسارے کا شکار ہے۔ پاکستان میں متناسب نمائندگی کا کوئی نظام ہونا چاہئے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کراچکی ہیں۔ 

Related Posts