کراچی:سندھ کے وزیر اطلاعات وبلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت میڈیا ہاؤسز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے بجٹ اورنان بجٹ بقایاجات کی ادائیگی کے لیے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
یہ بات وزیر اطلاعات و بلدیاتی سندھ نے گزشتہ رات سی پی این ای ہاؤس میں میٹ دی ایڈیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا ہاؤسز اورمیڈیا ورکرز کی بھرپور معاونت کی ہدایات دی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی چاہتے ہیں کہ میڈیا ہاؤسز کے مسائل حل ہو ں۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی اور گزارش کی کہ میڈیا ورکرزکو اداروں سے نہ نکالا جائے اور انہیں بروقت تنخواہیں ادا کی جائیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز کو وقت پر ادائیگیاں یقینی بنانے کے لئے 85فیصد براہ راست میڈیا ہاؤسز کو ادائیگیاں کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیاہے،جس کے تحت صرف 15 فیصد ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کو ان کی کمیشن کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر محکمہ اطلاعات سندھ نے میڈیا ورکرز کے سیلری اکاؤنٹ میں براہ راست ایڈوانس ادائیگیاں کرنے کی تجویز تیار کی تھی لیکن ہمارے افسران بعض اداروں کے خوف سے اس تجویز پر عمل کرنے سے گھبرا رہے تھے جس کی وجہ سے تجویز پر عمل نہیں ہو سکا۔
صوبائی وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہیں ہم اس کو ویلکم کرتے ہیں لیکن ہمارے مو قف کو بھی مناسب جگہ دی جائے اورسندھ حکومت کے میگا ترقیاتی منصوبوں کو بھی ہائی لائٹ کیا جائے۔
ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شخصی فیصلے نہیں ہوتے پیپلز پارٹی کے فیصلے اکثریتی رائے سے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں ہوتے ہیں، استعفوں پر فیصلہ سی اے سی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے اتحادی جماعتوں میں اختلاف رائے موجود ہے تمام جماعتوں کے اپنے اپنے منشور ہیں اور ایک دوسرے کے سیاسی حریف بھی رہے ہیں جب انتخابات ہوں گے تو اپنے اپنے پلیٹ فارم پر حصہ لیں گے لیکن پی ڈی ایم ساتھ ہے اور موجودہ وفاقی حکومت کو بڑی برائی سمجھتے ہیں۔
جب تک نااہل وفاقی حکومت سے جان نہیں چھڑا لیتے ہم ساتھ ہی رہیں گے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے سمجھ رہا تھا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ویژن کی تعریف کی جائے گی اور پیپلزپارٹی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
تمام جماعتیں ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے حق میں تھیں، لیکن پاکستان پیپلزپارٹی نے تجویز دی کہ ضمنی انتخابات اور سینٹ میں میدان خالی نہ چھوڑا جائے۔انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں ضمنی انتخابات میں پی ڈی ایم کی جماعتوں نے بھرپور کامیابی حاصل کی حتی کہ نوشہرہ میں حکمران جماعت اپنی ہی سیٹ ہار گئی۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود سینیٹ انتخابات میں سید یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوئے جو کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے مترادف ہے۔