یو اے ای ایمبیسی نے دہشتگردی کا شکار ہوکر معذور ہونے والے افراد کو مصنوعی ٹانگیں اور بازو لگوا دیے

تازہ ترین

تازہ ترین

یو اے ای ایمبیسی نے دہشتگردی کا شکار ہوکر معذور ہونے والے افراد کو مصنوعی ٹانگیں اور بازو لگوا دیے
یو اے ای ایمبیسی نے دہشتگردی کا شکار ہوکر معذور ہونے والے افراد کو مصنوعی ٹانگیں اور بازو لگوا دیے

اسلام آباد: ابوظبی ایمبیسی نے جنوبی وزیرستان میں دہشتگردی کا شکار ہو کر معذور ہونے والے افراد کو مصنوعی ٹانگیں اور بازو لگوا کر انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کردی ہے۔ متاثرہ افرد کو یو اے ای ایمبیسی نے پاکستان بیت المال کے تعاون سے مصنوعی ٹانگیں اور بازو لگوا دیے ہیں۔ تمام اخراجات متحدہ عرب امارات کی حکومت نے برداشت کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق معذور افراد کو لگائی جانے والی مصنوعی ٹانگیں اور بازو پاکستان میں تیار کیے گئے ہیں۔ مصنوعی اعضاء لگنے کے بعد متاثرہ افراد اب چل پھر سکتے ہیں ان کی معذوری اور محتاجی ختم ہو چکی ہے۔

اس موقع پر یو اے ای کے سفیر حمد عبید الزعابی نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے 61 معذور افراد کو مصنوعی اعضاء لگائے گئے ہیں آج سے تین ماہ قبل اس منصوبے پر کام شروع کیا تھا اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو نارمل زندگی کی طرف لانا تھا۔ دہشت گردی کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے اعضاء کھوئے تھے، ہم ان لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں یہ لوگ پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای ہر شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ یو اے ای اور پاکستان میں برادرانہ تعلقات کو 50 سال ہوگئے ہیں، پاکستان پہلا ملک ہے جس نے یو اے ای کو تسلیم کیا۔

اس موقع پر ایم ڈی بیت المال اختر عباس کا کہنا تھا کہ آج 61 افراد کو نارمل زندگی گزارنے کی امید دی گئی ہے جنوبی وزیرستان میں جنگ کے باعث لوگ اپنے اعضاء سے محروم ہوچکے تھے جو زندگی کی امید چھوڑ گئے تھے۔ ان کو زندگی کی طرف واپس لائے ہیں ہمارا ٹارگٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم 2000 افراد کو مصنوعی اعضاء لگائیں گے۔ بلوچستان میں معذور افراد کو بھی مصنوعی اعضاء لگائے جائیں گے یو اے ای نے ہر موقع پر پاکستان کی مدد کی ہے۔

جن افراد کو مصنوعی اعضاء لگائے گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہم لوگ معذوری کی زندگی بسر کر رہے تھے لیکن الحمدللہ اب ہم  چل پھر سکتے ہیں ہماری معذوری اور محتاجی ختم ہوگئی ہے۔ ایک بندے کے معذور ہونے سے پوری فیملی معذور ہوتی ہے۔ ہم اللہ تعالی کے اور یو اے ای کے شکر گزار ہیں جنھوں نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے ہمارے لیے مصنوعی اعضاء کا بندوبست کیا۔

یہ بھی پڑھیں : راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے مختلف علاقوں میں گندگی کے ڈھیر ، بیماریاں پھوٹنے لگیں ، شہری سراپا احتجاج

Related Posts