جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے خودکشی سے پہلے خط میں کیا لکھا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

لاہور: استحکامِ پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے خود پر گولی چلا کر خودکشی کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے پستول سے گولی چلا کر خودکشی کی، جس کی تصدیق اُن کے خاندانی ذرائع کی جانب سے بھی کردی گئی ہے۔

جہانگیر ترین کو بھائی کی خودکشی کی خبر پارٹی اجلاس کے دوران ملی، جس کے بعد وہ اجلاس درمیان میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے عالمگیر ترین لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں موجود تھے، وہاں سے اطلاع ملنے پر پولیس پہنچی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عالمگیر ترین نے خودکشی سے قبل ایک تحریر بھی چھوڑی ہے جس میں انہوں نے اپنی بیماری کا ذکر کیا ہے۔

واضح رہے کہ عالمگیر ترین غیر شادی شدہ تھے، ان کی عمر 63 سال تھی، ان کی منگنی ہوئی تھی اور وہ دسمبر میں شادی کرنے جا رہے تھے۔

عالمگیر خان ترین کون تھے؟

عالمگیر ترین معروف بزنس مین اور پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کی ٹیم ملتان سلطانز کے مالک اور مینیجنگ ڈائریکٹر تھے۔

عالمگیر خان ترین نے جنوبی پنجاب میں ایک سرکردہ بزنس مین کے طور پر اپنا نام قائم کیا۔ وہ شمیم اینڈ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے، جو جنوبی پنجاب کے لیے پیپسی کو کی آفیشل بوٹلر اور فرنچائز ہے۔

عالمگیر ترین ملک کا سب سے بڑے پانی صاف کرنے کا پلانٹس بھی چلارہے تھے۔ انہوں نے برکلے کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے بیچلر کیا اور بعد میں معروف ییل یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔

کھیلوں کے شوقین عالمگیر ترین معاشرے کی بہتری میں کھیلوں کے کردار پر گہرا یقین رکھتے تھے، اور خواہشمند کھلاڑیوں اور خواتین کے لیے ایک ٹھوس پلیٹ فارم قائم کرنے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو مزید فروغ دینے کے لیے بہترین ممکنہ وسائل فراہم کرنے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

Related Posts