کراچی :صوبائی وزیر برائے انفارمیشن سائنس و ٹیکنالوجی نوابزادہ محمد تیمور تالپور نے کہا ہے کہ پاکستان پر عمران خان کی صورت میں بحران خان کو مسلط کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک آئے روز ایک نئے بحران کا شکار ہورہا ہے۔
تالپور ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ کو اس کے حصے کی گیس نہیں مل رہی ہے۔ ادویات کے اسکینڈل پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا تو ادویات کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
چینی اور گندم کے بحران پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا تو دونوں اجناس نایاب ہوگئیں اور اب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔
نوابزادہ محمد تیمور تالپور نے کہا کہ وفاقی حکومت کی نا اہلی اور عوامی مسائل سے لا تعلقی کے رویے کے باعث بجلی کے بحران کے بعد گیس کا شدید بحران سر اٹھا رہا ہے۔
گیس میٹر رینٹ میں اضافے، کمرشل صارفین کے لیے نرخوں میں اضافے اور سردیوں میں سی این جی کی مستقل بندش سے عام آدمی ہی متاثر ہو گا۔
انہوں نے وفاقی حکومت کے 4 ماہ کیلئے سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کو ختم کرکے ایل پی جی فوری طور پر سستی کی جائے۔
گیس کے بحران پر قابوپانے کے لیے پہلے سے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ سی این جی اسٹیشن، بجلی اور صنعتی شعبوں کے لیے گیس کے ٹیرف میں اضافے سے مہنگائی کی ایک نئی لہر سامنے آئے گی۔
عوام پہلے ہی آٹا اور چینی سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں روز افزوں اضافے سے بے حال ہیں۔ مزید مہنگائی برداشت نہیں کر سکیں گے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ایک طرف گیس کے شدید بحران کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف شہری بجلی کے بعد گیس کی لوڈشیڈنگ سے بھی پریشان ہیں۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں کی سزا عوام بھگت پڑ رہی ہے۔