لاہور: صوبہ پنجاب کے شہر ڈسکہ میں 20 پولنگ اسٹیشنز کا عملہ تبدیل کردیا گیا جبکہ این اے 75 میں ضمنی انتخاب کا انعقاد 18 مارچ کو ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق حلقے کے 360 پولنگ اسٹیشنز میں سے 20 پولنگ اسٹیشنز کا عملہ بدل دیا گیا جبکہ 1 پولنگ اسٹیشن پر نیا پریزائڈنگ آفیسر تعینات کردیا گیا۔ گزشتہ ماہ 19 فروری کے روز این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔
حلقے میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 94 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں۔ ڈسکہ میں ن لیگ کی سیدہ نوشین افتخار اور تحریکِ انصاف کے علی اسجد ملہی میں سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔ ٹی ایل پی کے امیدوار حاجی خلیل سندھو بھی انتخاب لڑیں گے۔
مارپیٹ، فائرنگ اور دھاندلی جیسے الزامات حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے عائد کیے گئے۔ سارا دن مسلح افراد این اے 75 کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل پر گشت کرتے رہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق سارا دن فائرنگ کے باعث لوگ گھروں سے نکل ہی نہ پائے۔
دھاندلی اس وقت ثابت ہوئی جب ووٹوں کی گنتی کی گئی اور 360 میں سے 337 پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ تو موصول ہوا تاہم پولنگ اسٹیشنز کے 23 اراکین پر مشتمل انتخابی عملہ اچانک غائب ہوگیا۔ فون پر رابطہ کیا گیا تو ان میں سے 3 افراد واپس آگئے۔
مسلسل شکایات کے بعد بے حد سست روی سے الیکشن کمیشن اسلام آباد سے ایکشن لیا گیا اور ریٹرننگ آفیسر سے رپورٹ طلب کی گئی۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ سنایا کہ ڈسکہ کا انتخاب 18 مارچ کو دوبارہ ہوگا اور تمام پولنگ اسٹیشنز پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








