کراچی: مشہورومعروف سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والی کالم نگار اور مصنفہ فاطمہ بھٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان مہاجرین کو پاکستان آمد کی اجازت دی جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں معروف کالم نگار فاطمہ بھٹو نے کہا کہ پاکستان کو افغان مہاجرین کو پاکستان آمد کی اجازت دینی چاہئے۔ ہم افغانستان میں جاری کشیدگی پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔
ٹوئٹر پیغام میں معروف کالم نگار فاطمہ بھٹو نے کہا کہ افغانستان میں جاری محاذ آرائی پر ہمیں اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی اور نہ صرف مہاجرین کو پاکستان آمد کی اجازت دینی ہوگی بلکہ ان کے ساتھ تعاون بھی کرنا ہوگا۔
پیغام میں کالم نگار فاطمہ بھٹو نے کہا کہ اپنے دل کی گہرائیوں سے پوری قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتی ہوں۔ امید ہے ایک روز ہم اپنے وطن سے مخلص ہوں گے جو ہمیشہ ضرورت مندوں کیلئے ایک مقدس سرزمین رہا۔
Happy 14th August. From my heart, I hope we will one day be true to our origins, and will always be a country of sanctuary to those in need. ????
— fatima bhutto (@fbhutto) August 14, 2021
Pakistan must allow refugees in. We cannot turn a blind eye to the crisis unfolding and must give entry and aid https://t.co/PtBkz2MWua
— fatima bhutto (@fbhutto) August 13, 2021
افغان دارالحکومت کابل میں پیدا ہونے والی فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان پناہ گزینوں کا ہمدرد ملک ہے جسے اپنے قیام کے بنیادی نظریات سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہئے جبکہ ہم پناہ گزینوں کے ملک میں پیدا ہوئے تھے۔
معروف کالم نگار فاطمہ بھٹو نے مزید کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لوگ کچھ اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں کہ افغانی پاکستانیوں کو پسند نہیں کرتے جبکہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں، ہمسایہ ملک میں ہنگامی ضروریات کا مسئلہ درپیش ہے۔
کالم نگار و مصنفہ فاطمہ بھٹو نے مزید کہا کہ ہماری یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم افغان مہاجرین کو پناہ گاہ اور دیکھ بھال کی سہولیات مہیا کریں۔انہوں نے افغانستان میں جاری طالبان کے حملوں اور خانہ جنگی پر مبنی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر میں تشویشناک حد تک غمزدہ ہوں۔ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ افغان بھائی بہنوں کی ہر ممکن مدد کریں۔ ہمارے ملک میں رہنے والے محنت کش افغان جہاں رہتے ہیں وہ علاقہ ترقی کرتا ہے۔ریاست سے ذاتی طور پر سرحدیں کھولنے کی اپیل کرتی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پرچم کشائی کی مرکزی تقریب، صدرِ مملکت کا ولولہ انگیز خطاب
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








